پاکستان میں جمعہ 10 جولائی 2026 کو سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے استحکام اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی بکنگ کے باعث مقامی سطح پر بھی نرخ نیچے آ گئے۔
ملک بھر میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 1,800 روپے کی کمی سے 2 لاکھ 62 ہزار 400 روپے پر آ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 24 ہزار 965 روپے رہا۔ رواں ہفتے کے آغاز میں قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد یہ گراوٹ خریداروں کے لیے ایک وقفہ ثابت ہوئی ہے۔
اس تبدیلی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمت کا 2,375 ڈالر فی اونس تک آنا ہے۔ امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی بہتری نے سونے کی طلب کو متاثر کیا، کیونکہ ڈالر کے مضبوط ہونے سے دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے سونا خریدنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔
کراچی اور لاہور کی مقامی جیولری مارکیٹوں میں آج خریداروں کا رش معمول سے کم رہا۔ حالیہ مہنگائی کے باعث صارفین محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور قیمتوں میں مزید کمی کے منتظر ہیں۔
کراچی کے ایک بلین بروکر کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ عالمی رجحان کے مطابق ردعمل دے رہی ہے۔ لوگ قیمتیں گرنے کا انتظار کر رہے تھے، لیکن موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث وہ ابھی بڑی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔”
پاکستان میں سونے کا کاروبار براہِ راست روپے کی قدر اور عالمی نرخوں سے جڑا ہے۔ مرکزی بینک کی سخت مانیٹری پالیسی اور درآمدی پابندیوں نے مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو پہلے ہی محدود کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتوں کے مقابلے میں مقامی پریمیم میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔
اگرچہ آج کی گراوٹ نے خریداروں کو وقتی ریلیف دیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث طویل مدتی رجحان اب بھی تیزی کی طرف ہے۔ مقامی منڈی فی الحال اس انتظار میں ہے کہ عالمی نرخوں میں یہ کمی مستقل بنیادوں پر ہوتی ہے یا یہ محض ایک عارضی تبدیلی ہے۔
