سندھ کے ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے کراچی کے ایک معروف نجی اسکول سسٹم کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعلیمی سیشن کے دوران فیسوں میں کیا گیا غیر قانونی اضافہ فوری طور پر واپس لے۔ محکمہ تعلیم نے اس اقدام کو صوبائی قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسکول کی مرکزی عمارت کے باہر والدین کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ انتظامیہ نے صوبائی ریگولیٹر کی منظوری کے بغیر فیسوں میں 15 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ بدھ کی رات جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں حکام نے والدین کے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ نے اسکول کو حکم دیا ہے کہ وہ وصول کی گئی اضافی رقم یا تو والدین کو واپس کرے یا اسے آئندہ ماہ کی فیسوں میں ایڈجسٹ کرے۔
یہ معاملہ شہر بھر میں جاری اسکول فیس تنازعات کی ایک کڑی ہے۔ کئی نجی ادارے بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز اور عملے کی تنخواہوں کا جواز پیش کر کے اچانک فیسیں بڑھا دیتے ہیں۔ تاہم سندھ کے قوانین کے تحت نجی اسکول سالانہ 5 فیصد سے زیادہ فیس میں اضافہ نہیں کر سکتے، اور اس کے لیے بھی ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سے باقاعدہ آڈٹ اور منظوری لینا لازم ہے۔
احتجاج میں شامل ایک والد نے بتایا، "ہمیں صرف دو دن کا نوٹس دیا گیا کہ اگلے ماہ سے نئی فیس نافذ ہوگی۔ نہ کوئی شفافیت تھی، نہ مشاورت، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ تعلیمی سال کے بیچ میں یہ اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے۔”
اسکول انتظامیہ نے مؤقف اپنایا ہے کہ ریکارڈ مہنگائی کے دور میں ‘تعلیمی معیار’ برقرار رکھنے کے لیے یہ اضافہ ضروری تھا۔ مقامی میڈیا کو جاری ایک مختصر بیان میں اسکول کے ترجمان نے کہا کہ ادارہ ڈائریکٹوریٹ کی ہدایات کا جائزہ لے رہا ہے اور ہفتے کے آخر تک والدین کو اپنے آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کر دے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان دیگر اسکولوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے جو اب تک ریگولیٹری فریم ورک کو نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے فیسوں کے معاملات پر سخت موقف اختیار کرنے کے بعد، قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو اب بھاری جرمانے یا رجسٹریشن منسوخی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فی الحال والدین کو ایک وقتی کامیابی ملی ہے۔ تاہم اسکول انتظامیہ ہفتے کی ڈیڈ لائن تک اس فیصلے پر عمل کرتی ہے یا نہیں، یہ ریگولیٹر کی اس طاقت کا امتحان ہے جو اب تک نجی تعلیمی شعبے میں بہت کم نظر آتی تھی۔
