فلسطینی صدر محمود عباس نے دو دہائیوں کے طویل تعطل کے بعد ملک میں پہلے پارلیمانی انتخابات کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ شیڈول کے مطابق مئی میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوں گے، جس کے بعد جولائی میں صدارتی انتخاب کا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔
یہ اعلان مغربی کنارے میں موجود فتح اور غزہ پر قابض حماس کے درمیان برسوں سے جاری سیاسی خلیج کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ 2007 سے جاری اس داخلی محاذ آرائی نے فلسطینی طرزِ حکمرانی کو مفلوج کر رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ انتخابی عمل خطے کی کشیدہ صورتحال میں اپنی بقا برقرار رکھ پائے گا یا نہیں۔
ماضی میں بھی انتخابات کے کئی ارادے داخلی اختلافات اور بیرونی دباؤ کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس بار فلسطینی اتھارٹی کو بدعنوانی، تعطل کا شکار امن عمل اور کورونا وبا کے معاشی اثرات کے باعث عوامی غیظ و غضب کا سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ محمود عباس اس انتخاب کے ذریعے بائیڈن انتظامیہ اور علاقائی طاقتوں کے سامنے اپنی ساکھ بحال کرنے کا جوا کھیل رہے ہیں۔
حماس نے اس پیش رفت پر محتاط خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم اسے فلسطینی سیاسی ڈھانچے میں باقاعدہ شمولیت کا ایک راستہ سمجھتی ہے۔ تاہم، حماس کی قیادت کا اصرار ہے کہ ووٹنگ کا عمل بیرونی مداخلت سے پاک ہونا چاہیے۔ مغربی کنارے پر اسرائیلی سیکیورٹی کنٹرول اور غزہ میں انتخابی انتظامات کی پیچیدگیاں اس مرحلے کو ایک بڑا چیلنج بناتی ہیں۔
انتخابات کی کامیابی کا دارومدار کئی عوامل پر ہے، جن میں قید سیاسی رہنماؤں کی ممکنہ امیدواری اور اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی آزادی شامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بیس سالہ وقفے نے ایک ایسا سیاسی خلا پیدا کیا ہے جہاں نوجوان نسل نے کبھی ووٹ نہیں ڈالا، جس کے باعث نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
اگر یہ انتخابات شیڈول کے مطابق منعقد ہو جاتے ہیں، تو یہ یاسر عرفات کی وفات کے بعد فلسطینی قیادت میں سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ فتح اور حماس کے درمیان ماضی کے کئی معاہدے ناکامی سے دوچار ہوئے، جس کی وجہ سے بہت سے فلسطینیوں کو اس حکم نامے کے عملی نتائج پر شکوک و شبہات ہیں۔
فلسطینی الیکشن کمیشن نے تکنیکی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ اصل امتحان حکم نامے پر دستخط نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا حماس اور فتح پولنگ کے دن تک اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر امن برقرار رکھ سکیں گے؟
