ڈونلڈ ٹرمپ کی عبوری ٹیم ایک دیرینہ منصوبے کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے: سعودی عرب کے ساتھ ایک باضابطہ سول جوہری معاہدہ۔ ریاض کے لیے یہ ڈیل ان کے "ویژن 2030” کا بنیادی ستون ہے جس کا مقصد توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کے لیے، یہ ایک بڑا جغرافیائی سیاسی جوا ہے—جس کا مقصد جوہری ٹیکنالوجی کے بدلے علاقائی سیکیورٹی کی ضمانتیں حاصل کرنا اور سعودی عرب کو چین کے اثر و رسوخ سے دور رکھنا ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کا مرکزی نقطہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے ارادوں کو واضح کر چکے ہیں: اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنایا، تو مملکت بھی پیچھے نہیں رہے گی۔ یہی "جوہری ہیجنگ” غیر پھیلاؤ کے حامیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا طریقہ کار "مشروط تعاون” پر مبنی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ سعودی جوہری ترقی میں مرکزی شراکت دار بن کر وہ سخت نگرانی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ہدف ایک "گولڈ اسٹینڈرڈ” معاہدہ ہے—یعنی ایک ایسی 123 ڈیل جو قانونی طور پر مملکت کو مقامی سطح پر یورینیم افزودگی سے روک دے اور انہیں امریکہ کے فراہم کردہ ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کرے۔
تاہم، حالات بدل چکے ہیں۔ سعودی عرب اب صرف مغربی مہارت پر منحصر نہیں ہے۔ مذاکرات ماضی میں اس لیے تعطل کا شکار ہوئے کیونکہ ریاض نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو "کسی بھی وقت، کہیں بھی” معائنے کی اجازت دیتا ہے۔ سعودی حکام اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے سخت شرائط پر اصرار کیا، تو وہ چین یا روس کا رخ کریں گے—ایسے شراکت دار جو جوہری برآمدات کے ساتھ غیر پھیلاؤ کی شرائط جوڑنے میں کم ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔
واشنگٹن میں داخلی سیاسی صورتحال اس راستے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ سول جوہری معاہدے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور امریکی قانون کے تحت مطلوب سخت نگرانی پر ماضی کی ہچکچاہٹ کے باعث شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے، انتظامیہ کو اسے ممکنہ طور پر ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی پیکٹ کے ساتھ جوڑنا پڑے گا، جس میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے غیر مستحکم خطے میں جوہری ٹیکنالوجی بیچنا ایک خطرناک روایت ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ "سویلین” پروگرام بھی وہ تکنیکی انفراسٹرکچر اور ماہرین فراہم کرتے ہیں جو سیاسی حالات بدلنے پر اسے فوجی استعمال کی طرف موڑنے کے لیے کافی ہیں۔ دوسری جانب حامیوں کا ماننا ہے کہ امریکی قیادت میں ہونے والا معاہدہ ہی علاقائی جوہری دوڑ کو روکنے کا واحد راستہ ہے، کیونکہ فروخت سے انکار کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی ان حریفوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی جو شفافیت کا مطالبہ نہیں کرتے۔
ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا وہ ان "گولڈ اسٹینڈرڈ” پابندیوں کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ اگر اس معاہدے کی قیمت ان معیارات میں نرمی ہوئی، تو امریکہ خود خطے میں جوہری پھیلاؤ کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک دور کا بانی بن سکتا ہے۔ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سعودی عرب کو ٹیکنالوجی ملتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کتنی بڑی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔
