واشنگٹن، ڈی سی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کے باوجود سفارتی مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی افواج ایران کے فوجی اہداف پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے، تاہم کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اپنے رویے میں حقیقی تبدیلی لائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایسے مذاکرات قبول نہیں کرے گا جن کے دوران ایران علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے یا بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے جاری رکھے۔
روبیو نے کہا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کا موقع موجود ہے، بشرطیکہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بامعنی مذاکرات کی طرف واپس آئے۔ ان کے مطابق اگر تہران امن کے لیے سنجیدہ عزم اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا مظاہرہ کرے تو واشنگٹن سفارتی بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک امریکی افواج اور اتحادیوں کو خطرات لاحق رہیں گے، امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ روبیو کے مطابق حالیہ امریکی فضائی حملوں کا مقصد ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا، امریکی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور خلیجی خطے میں بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی برقرار رکھنا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے اتحادی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ سفارتی کوششوں کی حمایت کریں اور ساتھ ہی ایران پر دباؤ برقرار رکھیں تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر اس تنازع کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے تاحال مارکو روبیو کی تازہ سفارتی پیشکش کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ ایرانی حکام امریکی فضائی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقبل کے مذاکرات فوجی دباؤ کے بغیر ہونے چاہییں۔
مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری کو اس تنازع کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر گہرے خدشات لاحق ہیں۔ متعدد ممالک کی جانب سے جنگ بندی کرانے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
