وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم ترقیاتی منصوبے کی منسوخی کے چند روز بعد ہی اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے منصوبے کو ختم کرنے کے باضابطہ حکم کے بعد وزیراعظم کے اس اچانک اقدام نے انتظامی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم آفس اور وزارت منصوبہ بندی کے درمیان مواصلاتی خلیج موجود ہے۔
یہ منصوبہ، جسے "مالی مشکلات” کی آڑ میں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، منگل کے روز اچانک دوبارہ خبروں کی زینت بن گیا۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں اس فیصلے کے پسِ پردہ محرکات پر رپورٹ طلب کی گئی ہے، جس کے بعد منصوبے کے اثاثوں کی نیلامی اور عملے کی برطرفی کا عمل روک دیا گیا ہے۔
منصوبے سے وابستہ افراد اس صورتحال پر شدید الجھن کا شکار ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو ٹھیکیداروں کو کام بند کرنے کا نوٹس ملا تھا، لیکن پیر کو انہیں دوبارہ کام نہ روکنے کی ہدایت کر دی گئی۔
یہ یو ٹرن موجودہ حکومت کے اندر موجود اس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک طرف کفایت شعاری کے اقدامات ہیں اور دوسری طرف بڑے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کا سیاسی دباؤ۔ جہاں وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کے لیے اخراجات میں کٹوتی پر بضد ہے، وہیں سیاسی قیادت ادھورے منصوبوں اور بند تعمیراتی سائٹس کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی تاثر سے خوفزدہ ہے۔
کابینہ ڈویژن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی منسوخی کا حکم وزیراعظم کی منظوری کے بغیر دیا گیا تھا۔ بظاہر یہ فیصلہ بیوروکریسی کی سطح پر ہوا تاکہ سہ ماہی جائزے سے قبل وفاقی بجٹ کے خسارے کو کم دکھایا جا سکے۔
وزیراعظم کی مداخلت نے صورتحال کا رخ بدل دیا ہے۔ اگر منصوبہ بحال ہوتا ہے تو حکومت کو دوبارہ فنڈز تلاش کرنا ہوں گے، جس کے لیے ممکنہ طور پر دیگر آپریشنل بجٹ سے رقوم نکالنی پڑیں گی۔
منصوبے کے ایک سربراہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم اندھیرے میں کام کر رہے ہیں۔ ایک دن ہمیں سامان سمیٹنے کا کہا جاتا ہے، اگلے دن ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ کام مکمل کیوں نہیں ہوا۔”
حکومت نے منصوبے کی مالی افادیت پر تفصیلی بریفنگ کے لیے جمعہ تک کی مہلت دی ہے۔ تب تک یہ منصوبہ معلق رہے گا—نہ مکمل بند اور نہ ہی فعال۔ حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا انتظامیہ مزید معاشی سختیوں کے باوجود اس منصوبے کے اخراجات کا بوجھ اٹھانے کا جواز پیش کر سکتی ہے یا نہیں۔
