نئی دہلی — سپریم کورٹ سے سزا معطل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی راہول گاندھی دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہو گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے نے نہ صرف ان کی پارلیمانی رکنیت بحال کر دی ہے بلکہ کانگریس پارٹی کے کارکنوں میں بھی نئی روح پھونک دی ہے۔
اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے عدالتی جنگ کو اپنی ذاتی فتح کے بجائے "نظریہ ہند” کی بقا کی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ان ریمارکس پر کسی قسم کی معافی مانگنے سے گریز کیا جن کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا، اور یہ واضح کیا کہ موجودہ حکومت پر ان کی تنقید حقائق پر مبنی ہے اور جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ "سچ کی جیت ہمیشہ ہوتی ہے، اگر آج نہیں تو کل۔”
حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے راہول گاندھی کی واپسی ایک بڑی سیاسی چنوتی ہے۔ بی جے پی کی قیادت نے عدالتی فیصلے کو محض ایک "طریقہ کار” کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی، تاہم پارٹی کے اندرونی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بی جے پی کو امید تھی کہ وہ راہول گاندھی کو طویل عرصے تک انتخابی عمل سے دور رکھنے میں کامیاب رہے گی، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔
راہول گاندھی کی واپسی سے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کو ایک متحرک قیادت مل گئی ہے۔ لوک سبھا میں اپنی نشست دوبارہ سنبھالنے کے بعد، راہول گاندھی اب منی پور میں جاری نسلی تشدد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے معاملات پر حکومت کو ایوان کے اندر گھیرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ محدود نوعیت کا تھا، جس میں خاص طور پر دو سال کی سزا کے "غیر معمولی” ہونے پر توجہ دی گئی، جس کی وجہ سے ان کے انتخابی حقوق متاثر ہو رہے تھے۔ اگرچہ قانونی جنگ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی، لیکن سیاسی میدان میں کانگریس نے نفسیاتی برتری حاصل کر لی ہے۔
راہول گاندھی کا آئندہ ہفتے کا شیڈول ظاہر کرتا ہے کہ وہ وقت ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ وہ کل پارلیمنٹ میں موجود ہوں گے، جہاں ان کا ارادہ شمال مشرقی بھارت کے بحران پر حکومت سے سخت جواب طلبی کا ہے۔
عدالتی کمروں کی خاموشی ختم ہو چکی ہے، اور اب سیاسی محاذ پر اصل مقابلہ شروع ہونے والا ہے۔
