چکوال کی سڑک پر نو سالہ ہانیہ کی زندگی کا خاتمہ ایک ایسی آوارہ گولی سے ہوا جس نے اب پورے علاقے میں احتساب کا مطالبہ زور پکڑ لیا ہے۔ ہانیہ کے لواحقین اور مقامی رہنما اب ابتدائی پولیس تفتیش کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ ہوائی فائرنگ کے دوران پیش آیا، جو پنجاب کے دیہی اضلاع میں ایک جان لیوا روایت بن چکی ہے۔ ہانیہ اس فائرنگ کا ہدف نہیں تھی؛ وہ محض اس وقت وہاں موجود تھی جب گولیاں چلائی گئیں۔
بدھ کے روز ضلعی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہانیہ کے والد نے کہا، "میری بیٹی قدرتی موت نہیں مری، اسے غفلت نے مارا ہے۔” انہوں نے صبح کا زیادہ تر وقت درخواستیں جمع کرانے میں گزارا، ان کا مطالبہ ہے کہ حکام صرف چند مشتبہ افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ علاقے میں غیر قانونی اسلحے کی روک تھام میں ناکامی کی تحقیقات بھی کریں۔
مقامی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے، لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز اکثر بااثر شخصیات کے دباؤ کے باعث سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ فائرنگ کے ان واقعات کو محض ‘حادثہ’ قرار دے کر قانونی نظام درحقیقت ملزمان کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
چکوال کے رہائشیوں کے لیے ہانیہ کا واقعہ طاقت کے مظاہرے میں ہونے والی ہلاکتوں کی ایک طویل فہرست کا تازہ ترین حصہ ہے۔ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ اس ظالمانہ چکر کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔
صوبائی حکومت نے تاحال اس خاندان کی درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ ہانیہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک کسی جج کو اس کیس کی نگرانی کے لیے مقرر نہیں کیا جاتا، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا مطالبہ معاوضہ نہیں، بلکہ ایک ایسی قانونی مثال کا قیام ہے جو کسی اور بچے کو آوارہ گولی کا شکار ہونے سے بچا سکے۔
