آپ کے پالتو کتے یا بلی کے پیالے میں موجود خوراک صرف پروٹین اور اناج پر مشتمل نہیں ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمرشل بنیادوں پر تیار کردہ پالتو جانوروں کی خوراک کے 75 فیصد سے زائد نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات موجود ہیں۔ یہ انکشاف پالتو جانوروں کی غذا میں شامل پوشیدہ اجزاء کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
اس تحقیق میں گیلے اور خشک دونوں طرح کے کھانوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ماہرین کو معلوم ہوا کہ پلاسٹک کے یہ ٹکڑے—یعنی پولیمر—تیاری کے عمل کے دوران خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ محض بیرونی آلودگی نہیں، بلکہ خوراک کو پیسنے یا اسے مشینوں کے ذریعے خاص شکل دینے کے دوران پلاسٹک کے باریک ذرات کا خوراک میں شامل ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔
پالتو جانور رکھنے والے افراد طویل عرصے سے خوراک کے پیکٹ پر درج اجزاء اور کیمیکلز کو تو پرکھتے آئے ہیں، مگر اب انہیں ایک ایسی غیر مرئی آلودگی کا سامنا ہے جس کا ذکر کسی لیبل پر نہیں ہوتا۔
تحقیق سے وابستہ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ "یہ ذرات حادثاتی طور پر شامل نہیں ہوتے۔ یہ صنعتی مشینوں اور پیکیجنگ میٹریل کا ضمنی پیداواری نتیجہ ہیں، جو خوراک کے پیالے تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹوٹ کر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔”
کتے اور بلیوں پر اس کے طبی اثرات اب بھی بحث کا موضوع ہیں۔ اگرچہ پلاسٹک کے پولیمر کھانے کے طویل مدتی نقصانات پر تحقیق جاری ہے، تاہم جانوروں کے ڈاکٹروں کو اس کے جمع ہونے والے اثرات پر تشویش ہے۔ یہ ذرات جانوروں کی آنتوں میں سوزش کا باعث بن سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر پلاسٹک میں شامل نقصان دہ کیمیکلز—جیسے تھھالیٹس یا بی پی اے —کو براہِ راست خون میں شامل کر سکتے ہیں۔
صنعتی حلقوں نے اس رپورٹ پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ زیادہ تر بڑی کمپنیاں اپنے موجودہ حفاظتی معیارات کا حوالہ دے کر دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معیارات اس وقت بنائے گئے تھے جب مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کو عالمی فوڈ چین میں ایک منظم مسئلہ تسلیم ہی نہیں کیا گیا تھا۔
مسئلے کی جڑ فیکٹری کے فرش سے بھی گہری ہے۔ تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی ایک بڑی مقدار ان ہی تھیلیوں سے آتی ہے جن میں خوراک کو "تازہ” رکھنے کے لیے بند کیا جاتا ہے۔ جب خشک خوراک مہینوں تک پلاسٹک کی تہہ والے پیکٹوں میں پڑی رہتی ہے، تو رگڑ اور درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث پیکنگ کی باریک تہیں ٹوٹ کر خوراک میں شامل ہو جاتی ہیں۔
پالتو جانوروں کے مالکان اب شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے کمپنیوں پر اپنی سپلائی لائنز کو دوبارہ ترتیب دینے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تب تک، آپ کے کچن میں رکھا ہوا پیالہ ممکن ہے کہ رات کے کھانے کے ساتھ ساتھ مصنوعی کچرا بھی پیش کر رہا ہو۔
