بحرالکاہل میں اٹھنے والی لہریں اب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور غیر متوقع ہو چکی ہیں۔ ماہرینِ موسمیات کو اب اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی صرف ایل نینو کے ساتھ نہیں چل رہی، بلکہ یہ اس قدرتی عمل کو ایک تباہ کن شکل دے رہی ہے۔
جب ایل نینو فعال ہوتا ہے تو تجارتی ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور گرم پانی کا رخ براعظم امریکا کی جانب مڑ جاتا ہے۔ یہ عمل دنیا بھر کے موسم کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ ماضی میں یہ ایک قدرتی اور متوازن عمل تھا، لیکن اب بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس کے لیے ایندھن کا کام کر رہا ہے۔ سمندر کی سطح کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایل نینو کے انجن کو تیز کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں کہیں شدید خشک سالی تو کہیں تباہ کن سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
یہ اثرات صرف نظریاتی نہیں ہیں۔ 2023-2024 کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جس نے اس پورے نظام کو نامعلوم حدود میں داخل کر دیا ہے۔ امریکی ادارے کے محققین کے مطابق، بحرالکاہل کا بنیادی درجہ حرارت آج سے تیس برس قبل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ جب سمندر کا ’بیس لائن‘ درجہ حرارت ہی گرم ہو، تو ایل نینو کے دوران درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ ان سطحوں کو چھو لیتا ہے جنہیں ماضی میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
یہ صورتحال ایک ’مرکب اثر‘ پیدا کر رہی ہے۔ اب معاملہ صرف ہواؤں کے رخ بدلنے کا نہیں، بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں قید اس اضافی حرارت کا ہے جو دیر تک خارج نہیں ہو پاتی۔ یہ توانائی ایل نینو کے دورانیے کو کھینچ دیتی ہے اور اس کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔ آسٹریلیا کے کسان ہوں یا مشرقی افریقہ کے سیلاب زدہ علاقے، ان سب کے لیے یہ ’نیا معمول‘ انتہائی غیر مستحکم ہے۔
اگرچہ کچھ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بحرالکاہل کا موسم ہمیشہ سے متغیر رہا ہے، لیکن موجودہ گرمی کی رفتار ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ دنیا بھر کے سمندر گرین ہاؤس گیسوں سے پیدا ہونے والی 90 فیصد اضافی حرارت کو جذب کر رہے ہیں۔ یہ توانائی کہیں نہ کہیں تو نکلے گی، اور بحرالکاہل اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ’ہیٹ سنک‘ بنا ہوا ہے۔
اس کے معاشی اثرات عالمی منڈیوں میں واضح ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں خشک سالی سے چاول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ جنوبی امریکا میں بے وقت بارشوں نے کافی اور سویابین کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صرف موسم کی خبریں نہیں، بلکہ عالمی سپلائی چین میں آنے والے وہ جھٹکے ہیں جو عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں قدرتی موسمی تغیرات، ماحولیاتی بحران کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ بحرالکاہل اب صرف اپنی سمت نہیں بدل رہا، بلکہ اسے ایسی انتہا کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں غلطی کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا ماحولیاتی تبدیلی ایل نینو کو متاثر کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم مزید کتنی افراتفری برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، اس سے پہلے کہ یہ تباہ کن چکر ہی ہمارا مستقل ٹھکانہ بن جائے۔
