جنوبی اسپین کے پہاڑی سلسلے ’سیرا برمیا‘ میں بھڑکنے والی خوفناک آگ نے کم از کم 11 افراد کی جان لے لی ہے۔ منگل کی شب شروع ہونے والی یہ آگ اب تک 4 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے کو راکھ کر چکی ہے، جس کے بعد تین پہاڑی دیہات کو ہنگامی بنیادوں پر خالی کروا لیا گیا ہے۔
ہلاکتیں جوبریقے قصبے کے قریب ہوئیں۔ امدادی ٹیموں نے بدھ کی صبح ان افراد کی لاشیں برآمد کیں جو آگ کے نرغے میں پھنس گئے تھے۔ یہ لوگ اپنے مویشیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے جب آگ نے انہیں گھیر لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں دھواں اور دشوار گزار راستوں کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
مقامی سطح پر ’ٹیریل‘ کہلانے والی گرم اور تیز ہواؤں نے آگ کو بے قابو کر دیا ہے۔ منگل کو نمی کا تناسب 15 فیصد سے نیچے گر گیا، جس نے خشک جھاڑیوں کو بارود کی طرح دہکا دیا ہے۔
علاقائی وزیر برائے صدارت انتونیو سانز نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ آگ روایتی حکمت عملیوں سے قابو میں نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیرا برمیا کا پہاڑی جغرافیہ اتنا کٹھن ہے کہ بھاری مشینری وہاں نہیں پہنچ سکتی، جس کی وجہ سے زمینی عملے کو انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔
ہسپانوی حکومت نے ملٹری ایمرجنسی یونٹ کو امدادی کارروائیوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس وقت 500 سے زائد اہلکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں، جبکہ 20 طیارے پانی اور آگ بجھانے والا کیمیکل گرا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود حکام کا اعتراف ہے کہ آگ ابھی تک ان کے قابو سے باہر ہے۔
اس خطے میں گرمی کا یہ موسم ریکارڈ ساز رہا ہے اور اندلس کے علاقوں میں درجہ حرارت اکثر 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گرمی کے ساتھ ساتھ طویل خشک سالی اس آگ کی شدت کی اصل وجہ ہے۔
جوبریقے اور گردونواح کے دیہات کے مکینوں کے لیے یہ سانحہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ خاندانوں کی برسوں کی محنت چند گھنٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن چکی ہے۔ شام ڈھلتے ہی افق پر پھیلی نارنجی سرخی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیرا برمیا میں آگ کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
