ملک بھر میں درجہ حرارت گرنے کے باوجود گھریلو اور صنعتی صارفین کو گیس کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ سرکاری یوٹیلٹی کمپنیوں کے مطابق گیس کا دباؤ تسلی بخش ہے اور موسم سرما میں درکار اضافی طلب کو پورا کیا جا رہا ہے، جو کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ اسٹریٹجک ذخائر اور پاور سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پر ایندھن کی فراہمی نے ان بحرانوں کو ٹال دیا ہے جنہوں نے گزشتہ سردیوں میں صنعتی پیداوار کو شدید متاثر کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت ایل این جی کارگوز کی خریداری نے ملکی گرڈ کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے محفوظ رکھا ہے۔
عام صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ناشتے کے اوقات میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ تاہم، صنعتی شعبے کے لیے حالات اب بھی چیلنجنگ ہیں۔ ٹیکسٹائل اور برآمدی مراکز کے مالکان کا کہنا ہے کہ اگرچہ گیس کی دستیابی اطمینان بخش ہے، لیکن ایندھن کی بلند قیمتیں ان کی پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت بنا رہی ہیں۔
ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "گیس موجود تو ہے، مگر مہنگی اتنی ہے کہ ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت محدود کرنا پڑ رہی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ گیس کا مسلسل بہاؤ ایک ریلیف ضرور ہے، لیکن ٹیرف کا موجودہ ڈھانچہ دراصل پیداوار کو محدود کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ ایل این جی کی درآمدی لاگت صارفین تک منتقل کرنا قومی یوٹیلٹی کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے حکومت نے سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور انفراسٹرکچر کو فعال رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نازک ہے۔ موسم کی پیش گوئی کے مطابق اگر اگلے ماہ سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تو سپلائی چین کا اصل امتحان شروع ہوگا۔ اگر طلب موجودہ تخمینوں سے بڑھ گئی، تو حکومت کو ترجیحات بدلنا پڑیں گی اور اس صورت میں صنعتی صارفین سب سے پہلے متاثر ہوں گے۔
فی الحال چولہے جل رہے ہیں اور گرڈ سسٹم دباؤ برداشت کر رہا ہے۔ لیکن کیا یہ روانی سردیوں کے عروج تک برقرار رہے گی؟ اس کا انحصار مکمل طور پر حکومت کی جانب سے ایل این جی کی آئندہ کھیپوں کی بروقت آمد پر ہے۔
