سفک کے دیہی علاقے میں ایک بڑی آگ بھڑک اٹھی ہے جو سائز ویل بی نیوکلیئر پاور اسٹیشن سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ منگل کی سہ پہر ساحلی پٹی کے قریب شروع ہونے والی اس آگ نے علاقے کو دھوئیں کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے بعد مقامی فائر اسٹیشنوں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی شروع کر دی ہے۔
سفک فائر اینڈ ریسکیو سروس نے تصدیق کی ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ چکی ہیں۔ عملہ خشک جھاڑیوں اور ساحلی نباتات میں پھیلتی ہوئی آگ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مشرقی انگلیا میں حالیہ گرم اور خشک موسم نے آگ کے پھیلاؤ میں اضافے کا کام کیا ہے۔
پاور پلانٹ سے قریبی فاصلے نے حکام اور عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ای ڈی ایف انرجی کے زیر انتظام یہ پلانٹ برطانیہ کے پاور گرڈ کا ایک اہم حصہ ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسٹیشن معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور آگ سے پلانٹ کے انفراسٹرکچر یا حفاظتی نظام کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
مقامی پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر جائے وقوعہ کے ارد گرد متعدد راستوں کو بند کر دیا ہے۔ حکام نے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں اور متاثرہ علاقے کا رخ نہ کریں تاکہ ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ آئے۔
اگرچہ تفتیش کاروں نے ابھی تک آگ لگنے کی حتمی وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ واقعہ برطانیہ کے ساحلی علاقوں میں خشک سالی کے دوران بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ سفک میں سوکھی ہوئی نباتات تیزی سے آگ پکڑ رہی ہیں، جس سے مقامی وسائل پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
فی الحال آگ ایک مخصوص دائرے تک محدود ہے، لیکن بدلتی ہوئی ہوائیں فائر فائٹرز کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ عملہ رات بھر جائے وقوعہ پر موجود رہے گا تاکہ گرم مقامات کو ٹھنڈا کیا جا سکے اور آگ دوبارہ بھڑکنے کے خدشات کی نگرانی کی جا سکے۔
اس وقت پاور پلانٹ لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ تمام تر توجہ آگ کو موجودہ حدود سے باہر پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہے۔
