کوئٹہ — کوئٹہ کے نواحی علاقے اسپن کاریز میں منگل کی صبح کوئلے کی ایک کان میں میتھین گیس کا زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو کان کن موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ کان تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ دھماکے سے کان کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا جس سے نکلنے کے راستے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ جائے وقوعہ پر موجود حکام کا کہنا ہے کہ کان کی خستہ حالی اور اندرونی ساخت میں عدم استحکام کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک دو لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن گیس کی بھاری مقدار کے باعث ریسکیو اہلکاروں کا مزید اندر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔”
دھماکے کے وقت کان میں موجود افراد کی حتمی تعداد تاحال واضح نہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی کان کن تاحال اندر پھنسے ہوئے ہیں، تاہم مقامی مائننگ یونینز کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ کان کے دہانے پر اپنے پیاروں کے منتظر لواحقین کی بڑی تعداد موجود ہے، جن کی بے چینی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں حفاظتی معیارات کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ کان کن اکثر گہری اور غیر ہوادار سرنگوں میں بنیادی حفاظتی آلات اور گیس ڈیٹیکشن سینسرز کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ماضی میں پیش آنے والے متعدد سانحات کے باوجود حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدے عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہو سکے۔
صوبائی حکومت نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم تو دے دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات کا نتیجہ شاذ و نادر ہی کان مالکان کے احتساب کی صورت میں نکلتا ہے۔
فی الحال تمام تر توجہ اس تنگ اور غیر محفوظ سرنگ پر مرکوز ہے جہاں باقی کان کنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ کان کے اندر آکسیجن کی سطح کم ہونے اور مزید تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر ریسکیو کا وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
