جیفری ایپسٹین نے لندن کے لگژری فلیٹس میں نوجوان خواتین اور مبینہ متاثرہ افراد کو رکھا، یہ بات بی بی سی کی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس میں مرحوم فنانسر کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایپسٹین نے برطانیہ کے دارالحکومت میں موجود جائیدادوں کو افراد کو رکھنے اور مبینہ متاثرین کو منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا، جس سے اس کے آپریشنز امریکہ سے باہر بھی پھیل گئے۔ ان فلیٹس کو مبینہ طور پر ایک بڑے نظام کا حصہ بتایا گیا ہے، جس کے ذریعے ایپسٹین اور اس کے ساتھی ملاقاتوں کا انتظام کرتے اور مبینہ طور پر بدسلوکی میں معاونت کرتے تھے۔
بی بی سی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لندن نے ایپسٹین کی عالمی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا، جس سے یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ برطانیہ میں کون لوگ اس کے نیٹ ورک سے آگاہ تھے یا اس سے منسلک ہو سکتے تھے۔
ایپسٹین 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے متعدد تحقیقات اس کے مبینہ نیٹ ورک کے دائرہ کار اور عالمی پھیلاؤ کو سامنے لا رہی ہیں۔
تازہ انکشافات سے توقع کی جا رہی ہے کہ ان افراد اور اداروں پر مزید جانچ پڑتال بڑھے گی جو اس عرصے کے دوران ایپسٹین سے کسی نہ کسی طور پر منسلک رہے ہوں
