برطانوی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فاک لینڈ جزائر اب بھی برطانیہ کا سمندر پار علاقہ (Overseas Territory) ہیں، یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا ان متنازع جزائر سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ (نمبر 10) کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کا مؤقف واضح اور غیر تبدیل شدہ ہے، اور فاک لینڈز کی خودمختاری کا معاملہ وہاں کے عوام سے متعلق ہے، جنہوں نے بارہا برطانوی حکومت کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن فاک لینڈز کے طویل عرصے سے جاری تنازع پر اپنی سفارتی پالیسی کے کچھ پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم امریکا کی جانب سے کسی بھی پالیسی تبدیلی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ارجنٹینا فاک لینڈز پر اپنی ملکیت کا دعویٰ جاری رکھے ہوئے ہے اور انہیں “مالویناس” کہتا ہے، جبکہ وہ وقتاً فوقتاً مذاکرات کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کا مؤقف ہے کہ جب تک جزائر کے عوام خود مذاکرات نہ چاہیں، خودمختاری پر بات نہیں ہوگی۔
فاک لینڈ جزائر 1833 سے برطانوی کنٹرول میں ہیں، اور 2013 کے ریفرنڈم میں وہاں کے عوام نے واضح اکثریت سے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے تازہ بیانات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بیرونی رپورٹس یا مباحث کے باوجود برطانیہ کا مؤقف بدستور مضبوط ہے۔
