رام اللہ / دیر البلح، 25 اپریل 2026 — فلسطینیوں نے ہفتے کے روز بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے، مگر یہ محض ایک معمول کی شہری مشق نہیں۔ بظاہر یہ انتخاب مقامی کونسلوں، میونسپل اداروں اور روزمرہ سہولتوں کے انتظام کے لیے ہے، لیکن اس کے گرد جو سیاسی حقیقت موجود ہے، وہ کہیں زیادہ بڑی ہے: جوازِ حکمرانی، داخلی تقسیم، اور ووٹ ڈالنے کے باوجود حقیقی خوداختیاری سے محرومی۔
یہ انتخابی عمل ابتدا ہی سے جغرافیائی طور پر غیرمتوازن ہے۔ مغربی کنارے میں سینکڑوں بلدیاتی اور دیہی کونسلوں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے، جبکہ غزہ میں یہ عمل صرف دیر البلح تک محدود ہے۔ یعنی اسے کسی مکمل اور ہمہ گیر انتخابی واپسی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ ایک محدود، محتاط اور سیاسی طور پر قابو میں رکھا گیا انتخابی مرحلہ ہے۔
اسی میں اس ووٹ کی اصل معنویت بھی چھپی ہے۔ ایک طرف غزہ میں، خواہ صرف ایک ہی مقام پر سہی، ووٹنگ کا ہونا علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف، جب پورے غزہ کے بجائے صرف ایک میونسپلٹی تک بات محدود رہ جائے، تو اسے قومی جمہوری بحالی کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ زیادہ ایک ایسے سیاسی نظام کی تصویر لگتا ہے جو بکھرا ہوا ہے، اور پھر بھی اپنے آپ کو زندہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہی ہے: فلسطینی ووٹ دے رہے ہیں، مگر ایک خودمختار ریاست کے شہریوں کی طرح نہیں۔ یہ انتخابات قبضے کے سائے میں ہو رہے ہیں، نہ کہ آزاد ریاستی ڈھانچے کے اندر۔ مقامی نمائندے ضرور منتخب ہو رہے ہیں، مگر فلسطینی عوام کو اب بھی اپنی قومی قیادت کی تجدید کا موقع میسر نہیں۔ صدارتی اور قانون ساز انتخابات 2006 کے بعد سے نہیں ہوئے، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی اور غزہ میں حماس کے درمیان سیاسی تقسیم 2007 سے قائم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رائے دہندگان کو بلدیاتی سطح پر انتخاب کا حق تو دیا جا رہا ہے، مگر وہ اس بڑی سیاسی ساخت کو چیلنج یا تبدیل نہیں کر سکتے جو ان کی مجموعی قومی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ وہ میئر یا کونسلر بدل سکتے ہیں، مگر صدر، پارلیمان، قومی حکمتِ عملی یا نمائندہ نظام نہیں۔
انتخابی قانون نے بھی اس بحث کو اور تیز کیا ہے۔ 2025 کے ڈکری لا نمبر 23 کے تحت بلدیاتی انتخابی نظام میں تبدیلیاں کی گئیں۔ بعض بلدیاتی اداروں کے لیے اوپن لسٹ تناسبی نمائندگی متعارف کرائی گئی، جبکہ دیہی کونسلوں کے لیے الگ طریقہ کار برقرار رکھا گیا۔ لیکن اصل تنازع فنی تبدیلیوں پر نہیں تھا۔ اعتراض اس شرط پر ہوا جس کے تحت امیدواروں کو پی ایل او کے پروگرام، اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور عالمی قانونی فیصلوں سے وابستگی کے اعلان پر دستخط کرنا تھے۔
ناقدین کے نزدیک یہ محض انتظامی تقاضا نہیں، بلکہ ایک سیاسی فلٹر ہے۔ اور جب انتخابی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے ہی نظریاتی وفاداری کی شرط لگا دی جائے، تو پھر مقابلہ کھلا نہیں رہتا۔ ایسے میں ووٹ ڈالنے کا عمل بظاہر جمہوری سہی، مگر اس کا دائرہ پہلے ہی محدود ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ بات صرف اصولی نہیں، عملی بھی ہے۔ اگر کچھ جماعتیں یا آزاد امیدوار یہ سمجھیں کہ قواعد غیرجانبدار نہیں، تو پھر الیکشن صرف عوامی جوش یا اعتماد کا پیمانہ نہیں رہتا۔ وہ اس بات کا اشارہ بھی بن جاتا ہے کہ لوگ دستیاب اور محدود آپشنز میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور ہیں۔
پھر وہ زمینی حقیقت بھی ہے جسے اس پوری بحث سے الگ نہیں کیا جا سکتا: قبضہ۔ مغربی کنارہ کوئی معمول کا سیاسی یا بلدیاتی میدان نہیں۔ چیک پوسٹس، نقل و حرکت پر پابندیاں، اسرائیلی فوجی کارروائیاں، آبادکاروں کے حملے، اور زمین پر مسلسل دباؤ — یہ سب مقامی حکومت کے کردار کو شروع سے ہی محدود کر دیتے ہیں۔ ایک فعال اور منتخب بلدیاتی کونسل بھی اس ماحول میں مکمل اختیار کے ساتھ کام نہیں کر سکتی۔
یعنی اگر کوئی کونسل بہتر صفائی نظام بنانا چاہے، پانی کی فراہمی درست کرنا چاہے، یا بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنانا چاہے، تب بھی اسے اس حقیقت کا سامنا رہتا ہے کہ اصل کنٹرول اس کے ہاتھ میں نہیں۔ یہی اس انتخابی عمل کا سب سے بڑا تضاد ہے: انتخاب موجود ہے، اختیار نہیں۔
تو پھر یہ ووٹ آخر کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟
سب سے پہلے، یہ بلدیاتی بقا کی نمائندگی کرتا ہے۔ لوگوں کو پانی چاہیے، بجلی چاہیے، سڑکیں چاہیے، کچرا اٹھنا چاہیے۔ قومی سیاست چاہے جمود کا شکار ہو، روزمرہ زندگی نہیں رکتی۔ اسی لیے مقامی کونسلیں، اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود، عوامی زندگی کا ایک اہم حصہ بنی رہتی ہیں۔
دوسری بات، یہ ووٹ جوازِ حکمرانی کی کشمکش کی نمائندگی کرتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے لیے یہ انتخابات صرف انتظامی مرحلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہیں: کہ وہ اب بھی حکمرانی کا دعویٰ رکھتی ہے، ادارے چلا سکتی ہے، اور فلسطینی عوام کے سامنے اپنے آپ کو نظام کے مرکزی فریق کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ غزہ میں دیر البلح کی محدود شمولیت بھی اسی پیغام کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
لیکن سب سے بڑھ کر، یہ انتخابات شرکت اور طاقت کے درمیان فاصلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فلسطینی ووٹ ڈال سکتے ہیں، مگر ان امور پر نہیں جو ان کی اجتماعی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ مقامی سطح پر نمائندے چن سکتے ہیں، مگر سرحدوں، فضائی حدود، نقل و حرکت، سلامتی، زمین اور قومی مستقبل پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انتخابات بیک وقت اہم بھی ہیں اور ناکافی بھی۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ اہمیت ہے، اور خاصی ہے۔ مگر ان کی اہمیت اس بات میں کم ہے کہ یہ کچھ بدل دیں گے، اور اس بات میں زیادہ ہے کہ یہ موجودہ بحران کو بے نقاب کرتے ہیں۔
اگر ٹرن آؤٹ بہتر رہتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فلسطینی عوام اب بھی کمزور مگر موجود اداروں میں کچھ نہ کچھ امید رکھتے ہیں۔ اگر ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، تو یہ سیاسی تھکن، بداعتمادی اور اس احساس کی علامت ہو سکتا ہے کہ جمہوری شرکت کے نام پر صرف محدود دائرے میں گھومنے کی اجازت دی جا رہی ہے، اصل اختیار کے بغیر۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے، اور شاید اسی لیے زیادہ سخت بھی: فلسطین کا یہ بلدیاتی ووٹ اس بات کا ثبوت نہیں کہ خودمختاری آ گئی ہے۔ بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خودمختاری اب بھی دور ہے۔ بیلٹ باکس موجود ہیں، ووٹ حقیقی ہے، مقامی فیصلے بھی کسی حد تک حقیقی ہیں — مگر ان سب پر ایک بڑی حد قائم ہے۔ اور یہی حد، دراصل، اس پورے انتخاب کی اصل خبر ہے۔
