راولپنڈی — پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی ہے۔ جیل ذرائع نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے جو بدھ کے روز جیل کے احاطے میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ کسی بھی ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کی ملاقات کے وقت جیل انتظامیہ معمول کے مطابق اضافی نفری تعینات کرتی ہے، اور یہ ملاقات بھی اسی پروٹوکول کے تحت ہوئی۔
یہ ملاقات پی ٹی آئی کے لیے ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کو شدید قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ عمران خان کی قانونی ٹیم جہاں مختلف مقدمات میں ضمانت کے حصول کے لیے کوشاں ہے، وہیں پارٹی قیادت ملک بھر میں احتجاجی تحریک کو منظم کرنے میں مصروف ہے۔
بشریٰ بی بی — جنہیں گزشتہ ماہ توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت ملی تھی — مسلسل اپنے شوہر کی قید کی شرائط پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان کے وکلاء نے کئی بار عدالت میں یہ موقف اپنایا ہے کہ عمران خان کو جیل میں طبی سہولیات اور بنیادی حقوق تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے لیے یہ ملاقاتیں بانی چیئرمین اور پارٹی کے فیصلہ سازوں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک سال سے زائد عرصے سے قید کے باوجود، عمران خان اپنی قانونی ٹیم اور خاندان کے ذریعے پارٹی کی حکمت عملی طے کر رہے ہیں۔ یہ مختصر اور نگرانی میں ہونے والی ملاقاتیں ہی باہر کی دنیا اور جیل کے اندر موجود قیادت کے درمیان رابطہ قائم رکھتی ہیں۔
حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ عمران خان کی قید کا معاملہ مکمل طور پر عدالتی ہے اور اس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب تحریک انصاف اسے اپنے لیڈر کو سیاست سے دور رکھنے اور پارٹی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔
عدالتی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ عدلیہ سابق وزیراعظم کو کب تک ریلیف فراہم کرتی ہے۔ فی الحال، اڈیالہ جیل کی یہ ملاقاتیں ہی عمران خان کے لیے باہر کے سیاسی حالات سے باخبر رہنے کا واحد راستہ ہیں۔
