اسلام آباد، 20 جولائی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں حالیہ بدامنی اور احتجاجی واقعات کی تحقیقات کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن (سچائی اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل فوری طور پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کمیشن آزادانہ اور شفاف انداز میں حالیہ واقعات کی تحقیقات کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک احتجاج مؤخر کریں، جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ کمیشن کی رپورٹ آنے تک مزید کارروائی سے گریز کیا جائے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام کو انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا مناسب نہیں، اس لیے انٹرنیٹ سروس فوری بحال کی جائے تاکہ شہری آزادانہ طور پر معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کے انتخابات آزاد کشمیر کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں اور پیپلز پارٹی خطے میں آئینی حقوق، جمہوری آزادیوں اور معاشی ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سیاسی مخالفین پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور یقین ظاہر کیا کہ ان کی جماعت آئندہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔
