سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سخت اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی کے بدلے اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں جاری سفارتی شطرنج کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔
ٹرمپ نے اسے ایک ‘بڑی ڈیل’ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک واشنگٹن کی جانب سے ریاض کو جوہری توانائی کی فراہمی محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں، بلکہ یہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی قیمت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی توازن برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب اور اسرائیل کا ایک میز پر آنا ناگزیر ہے۔
سعودی قیادت کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی فلسطینی ریاست کے قیام یا کم از کم ٹھوس پیش رفت سے مشروط ہے۔ تاہم، ٹرمپ کا نقطہ نظر روایتی عرب امن اقدام سے ہٹ کر ‘ابراہیمی معاہدوں’ کے فریم ورک کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ فلسطینی مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر علاقائی اتحاد کو مرکزی حیثیت دینے کے حامی ہیں۔
موجودہ بائیڈن انتظامیہ بھی سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک سہ فریقی سیکیورٹی معاہدے پر کام کر رہی ہے، جس میں جوہری تعاون بھی شامل ہے۔ تاہم، امریکی کانگریس کے اندر ایک حلقہ سعودی عرب کو جوہری طاقت بنانے کے سیکیورٹی خطرات پر تحفظات کا شکار ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اس پیچیدہ مذاکراتی عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
ریاض کے لیے صورتحال ایک نازک موڑ پر ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کو جہاں ایک طرف جدید اور جوہری توانائی سے لیس معیشت کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف انہیں خطے کے عوامی جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے۔ عرب دنیا میں اسرائیل کے حوالے سے پائی جانے والی عوامی رائے اب بھی سخت ہے، جو کسی بھی اچانک سفارتی تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک انتخابی نعرہ ہے یا ایک سنجیدہ پالیسی روڈ میپ، اس پر مبصرین منقسم ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ سعودی عرب کا جوہری خواب اب امریکی سیاست کے بدلتے ہوئے دھاروں سے جڑ چکا ہے، جس کا دارومدار ایک ایسی سفارتی تسلیم پر ہے جو دہائیوں سے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
