امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک شہری نے اوپن اے آئی اور اس کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے دیے گئے طبی مشورے کے باعث اسے پیشہ ورانہ طبی امداد حاصل کرنے میں تاخیر ہوئی، جس کے نتیجے میں اسے جان لیوا پلمونری ایمبولزم کا سامنا کرنا پڑا۔
مقدمہ دائر کرنے والے اسکاٹ ونٹرز، جو فلوریڈا کے سابق پادری ہیں، کے مطابق وہ صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی کے GPT-4o ماڈل سے مشورے لیتے رہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ بار بار چکر آنے کی شکایت پر چیٹ بوٹ نے انہیں اپنی نقل و حرکت محدود کرنے اور گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا۔
مقدمے کے مطابق، جب ونٹرز نے بعد میں اپنی ران کے قریب حساسیت اور درد کے بارے میں سوال کیا تو چیٹ جی پی ٹی نے مبینہ طور پر اس علامت کو زیادہ خطرناک قرار نہیں دیا۔ ونٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ان مشوروں پر عمل کرتے رہے اور فوری طبی امداد حاصل نہیں کی۔
بعد ازاں ان کی حالت سنگین ہوگئی اور انہیں پلمونری ایمبولزم کا سامنا کرنا پڑا، جو پھیپھڑوں میں خون کا لوتھڑا پہنچنے کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک اور ممکنہ طور پر جان لیوا طبی حالت ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک غیر ضروری طور پر کم حرکت کرنے سے ان کی حالت مزید خراب ہوئی۔
ونٹرز نے اوپن اے آئی اور سیم آلٹ مین پر غفلت اور بغیر اجازت طبی مشورہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ ہرجانے کے ساتھ ساتھ ایسے AI نظاموں کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقدمے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب کسی صارف میں طبی ایمرجنسی کی علامات ظاہر ہوں تو چیٹ جی پی ٹی گفتگو ختم کرکے فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت کرے۔
اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ چیٹ جی پی ٹی پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے اور صحت سے متعلق فیصلوں میں انسانی ماہرین کی نگرانی ضروری ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت سے طبی رہنمائی لینے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس سے وابستہ ممکنہ خطرات پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں مریض کو سنگین یا جان لیوا علامات کا سامنا ہو۔
