گوگل کے فلیگ شپ اسمارٹ فون ’پکسل 11 پرو ایکس ایل‘ کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پکسل 9 اور 10 سیریز میں گوگل کی توجہ مکمل طور پر ’ٹینسر‘ پروسیسر اور سافٹ ویئر کی بہتری پر مرکوز رہی، لیکن اب کمپنی اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے۔ تازہ ترین لیکس کے مطابق، گوگل اب سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ ہارڈویئر کے محاذ پر بھی بڑے فیصلے کر رہا ہے۔
انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گوگل اپنے پرانے سنسر فارمیٹ کو خیرباد کہہ کر ایک بڑا پرائمری کیمرہ سنسر متعارف کرانے جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیمسنگ اور ایپل جیسے حریفوں کا مقابلہ کرنا ہے جو پہلے ہی بڑے پکسلز اور زوم کی صلاحیتوں کے ساتھ مارکیٹ پر حاوی ہیں۔
سب سے اہم تبدیلی 200 میگا پکسل کا مرکزی کیمرہ سنسر ہے۔ پکسل 6 سے لے کر اب تک گوگل 50 میگا پکسل سنسرز پر انحصار کرتا رہا ہے، لہذا یہ اپ گریڈ کمپنی کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ایک جدید ’پیری اسکوپ ٹیلی فوٹو‘ لینس بھی دیا جا رہا ہے، جس سے کم روشنی میں بھی 5x آپٹیکل زوم کے ساتھ بہترین تصاویر لینے کی توقع ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جہاں پچھلے ماڈلز کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
صرف کیمرہ ہی نہیں، بلکہ نیا ’ٹینسر جی 6‘ چپ سیٹ بھی خاص طور پر ان بھاری امیج فائلز کو ہینڈل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 200 میگا پکسل کی تصاویر کو پروسیس کرنے کے لیے زبردست طاقت درکار ہوتی ہے، اور گوگل اپنی کسٹم سلیکون ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ بیٹری لائف متاثر نہ ہو۔
یہ سب کیوں اہم ہے؟ برسوں تک گوگل نے ’کمپیوٹیشنل فوٹوگرافی‘ کے نام پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سافٹ ویئر بہتر ہارڈویئر کی کمی پوری کر سکتا ہے۔ اب بڑے فزیکل سنسرز کا استعمال اس بات کا اشارہ ہے کہ گوگل مزید سافٹ ویئر پیچز کے پیچھے چھپنا نہیں چاہتا۔ کمپنی اب ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کا ایسا امتزاج چاہتی ہے جو حریفوں کو ٹکر دے سکے۔
فون کا ڈیزائن کافی حد تک پرانا ہی رہے گا، جس میں 2021 سے جاری ’کیمرہ بار‘ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم، بڑے لینس ماڈیولز کے لیے فون کی باڈی کو قدرے موٹا کیا گیا ہے، جس کا مطالبہ پاور یوزرز کافی عرصے سے کر رہے تھے۔
گوگل نے ابھی تک ان لیکس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن سپلائی چین کے اشارے بتاتے ہیں کہ یہ فون سال کے آخر تک مارکیٹ میں آ جائے گا۔ اگر حتمی ڈیوائس لیک ہونے والی ان تفصیلات کے مطابق ہوئی، تو یہ پکسل سیریز کی تاریخ کا سب سے بڑا ہارڈویئر اپ گریڈ ثابت ہوگا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہارڈویئر کی اس تبدیلی کے باوجود گوگل اپنے فونز کی وہ منفرد ’تصویر‘ برقرار رکھ سکے گا جس کے لیے پکسل کے صارفین اسے پسند کرتے ہیں۔
