کراچی کے معروف گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ کی تحقیقات تاحال کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں۔ تفتیشی افسر (IO) نے عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دائر کر کے رپورٹ مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ فرانزک رپورٹس کی عدم دستیابی اور اہم گواہوں کے بیانات کا التواء بتایا گیا ہے۔
اس آتشزدگی کے واقعے میں درجنوں دکانیں خاکستر ہوئیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ واقعے کو گزرے عرصہ بیت چکا ہے، لیکن ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بجائے کیس کو تکنیکی بنیادوں پر لٹکایا جا رہا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملبے کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی، جو آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس رپورٹ کے بغیر پولیس یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ آیا یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کا نتیجہ تھا یا اس میں کوئی مجرمانہ غفلت یا تخریب کاری شامل تھی۔
متاثرہ دکانداروں کے لیے یہ تاخیر محض کاغذی کارروائی نہیں، بلکہ ان کی معاشی زندگی کا سوال ہے۔ انشورنس کمپنیوں نے کلیمز کی ادائیگی کو پولیس کی حتمی رپورٹ سے مشروط کر رکھا ہے، جس کے نہ ہونے سے متاثرین کو امداد کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔
اپنی دکان گنوانے والے ایک تاجر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم انتظار کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ جب بھی اپ ڈیٹ مانگتے ہیں، جواب ملتا ہے کہ تفتیش جاری ہے۔ آخر ایک عام سی آگ لگنے کے واقعے کی تحقیق میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟”
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی تاخیر کراچی میں فرانزک شواہد جمع کرنے کے ناقص نظام کی عکاس ہے۔ شہر میں اکثر آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات اس لیے تعطل کا شکار رہتی ہیں کیونکہ فائربریگیڈ کی ابتدائی رپورٹ اور پولیس کی تفتیش کے درمیان کوئی مربوط رابطہ موجود نہیں ہوتا۔
عدالت نے تاحال تفتیشی افسر کی مہلت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے، لیکن اس التواء نے متاثرہ تاجروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جب تک حتمی رپورٹ سامنے نہیں آتی، گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی وجہ حقائق کے بجائے محض قیاس آرائیوں تک محدود رہے گی۔
