صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب میں مون سون کے آخری اور شدید بارشوں کے سلسلے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ہوا کا ایک کم دباؤ صوبے میں داخل ہو رہا ہے جس سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
یہ الرٹ آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت وسطی اور شمالی پنجاب کے اضلاع میں تیز بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شہری انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر فعال کریں، کیونکہ گزشتہ ہفتوں کی بارشوں کے بعد زمین پہلے ہی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "تمام اضلاع میں ایمرجنسی سروسز کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہماری اولین ترجیح ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر آبادی کا تحفظ ہے۔”
انتظامیہ نے خاص طور پر ڈیرہ غازی خان اور کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں سے ملحقہ علاقوں کے لیے انخلا کا پلان تیار رکھا ہے۔ ماضی میں ان علاقوں میں اچانک سیلابی ریلے بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنتے رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر بھاری مشینری کو حساس مقامات پر پہلے سے پہنچا دیا گیا ہے۔
کاشتکار بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔ پنجاب کے جنوبی حصوں میں کپاس کی فصل اس وقت فیصلہ کن مرحلے پر ہے، اور شدید بارشیں پیداوار کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ محکمہ زراعت نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھیتوں سے پانی نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، تاہم موسمی شدت کے سامنے یہ تدابیر کتنی کارگر ثابت ہوں گی، یہ آنے والے چند گھنٹوں میں واضح ہو جائے گا۔
مون سون کا یہ آخری سلسلہ ہفتے کے آخر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کیونکہ تیز بارشوں کے دوران موٹر ویز اور مرکزی شاہراہوں پر حدِ نگاہ کم ہونے سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے ان کی ہیلپ لائن 1129 پر ہر وقت رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
