نیپال میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور تودے گرنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کئی لاپتہ ہیں۔ قدرتی آفت نے ملک کا بنیادی ڈھانچہ مفلوج کر کے رکھ دیا ہے؛ اہم شاہراہیں بہہ گئی ہیں اور متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر بند کرنا پڑا ہے۔
سب سے زیادہ تباہی وسطی اور مغربی اضلاع میں ہوئی، جہاں دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے سے آبادی والے علاقے زیرِ آب آ گئے۔ تنہون ضلع میں پانی کا ریلا رہائشی بستیوں میں داخل ہوا، جس سے کچے مکانات منٹوں میں مٹی کا ڈھیر بن گئے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پانی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ سیتی دریا کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی نے بتایا کہ "ہم دیکھتے رہ گئے اور سڑک ہماری آنکھوں کے سامنے دریا میں بہہ گئی۔ اب ہمارے پاس نہ خوراک ہے اور نہ ہی رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ۔”
دارالحکومت کھٹمنڈو کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کئی مقامات پر مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹنوں وزنی پتھر اور مٹی سڑکوں پر آ گری ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں مسافر بسیں اور مال بردار ٹرک راستوں میں پھنس گئے ہیں۔ اس صورتحال نے دارالحکومت میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
توانائی کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق پانی میں مٹی اور ملبہ زیادہ ہونے کے باعث کم از کم تین ہائیڈرو پاور پلانٹس بند کر دیے گئے ہیں۔ گرڈ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اور اب ان پلانٹس کی بندش سے آنے والے دنوں میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا خدشہ ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلسل بارش اور دھند کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ممکن نہیں، اور زمینی راستے بند ہونے کے باعث امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔ پہاڑی علاقوں کی کچی مٹی مزید بارش سے کسی بھی وقت دوبارہ پھسل سکتی ہے، جو امدادی کارکنوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔
موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زمین پہلے ہی نمی سے سیر ہو چکی ہے، اس لیے مزید معمولی بارش بھی مزید لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی راستے کھلیں گے، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ اب بھی کئی دور افتادہ بستیاں مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں۔
