نوزائیدہ بچوں میں وٹامن K کا ٹیکہ لگوانے سے انکار کے رجحان میں اضافے نے امریکی طبی ماہرین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ یہ ٹیکہ نوزائیدہ بچوں میں خون جمانے کے عمل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور اس سے گریز بچوں کو ‘لیٹ آنسیٹ’ وٹامن K کی کمی سے ہونے والی خطرناک اندرونی بلیڈنگ کے خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، وٹامن K کی کمی سے ہونے والی یہ بلیڈنگ انتہائی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت عام طور پر پیدائش کے کچھ ہفتوں بعد ظاہر ہوتی ہے، جس میں دماغ یا معدے کے اندر اچانک شدید خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ کئی کیسز میں بروقت طبی امداد نہ ملنے پر یہ مرض مستقل معذوری یا موت کا سبب بنتا ہے۔
یہ صورتحال ویکسین کے بارے میں پھیلنے والی غلط فہمیوں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بے بنیاد دعووں کا نتیجہ ہے۔ بہت سے والدین وٹامن کے اس سپلیمنٹ کو بھی ویکسین کا حصہ سمجھ کر مسترد کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک غذائی ضرورت ہے جو بچے کے جگر کو خون جمانے کے لیے درکار پروٹین بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ایک سینئر نیونیٹولوجسٹ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایسے کیسز دیکھ رہے ہیں جو اب ختم ہو جانے چاہیے تھے۔ جب والدین یہ ٹیکہ لگوانے سے انکار کرتے ہیں، تو وہ اپنے بچے کو ایک ایسے خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں جو چند گھنٹوں کے اندر دماغی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔”
امریکی ادارہ برائے انسداد امراضکے اعداد و شمار کے مطابق، جن بچوں کو یہ ٹیکہ نہیں لگتا، ان میں شدید بلیڈنگ کا خطرہ ان بچوں کے مقابلے میں 81 گنا زیادہ ہوتا ہے جنہیں یہ بروقت دیا جاتا ہے۔ اگرچہ وٹامن K کی زبانی خوراک بھی دستیاب ہے، لیکن وہ اتنی مؤثر نہیں ہے اور اسے بار بار دینا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر والدین اگلی خوراک دینا بھول جاتے ہیں۔
اب ہسپتالوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔ ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیدائش سے قبل ہی والدین سے تفصیلی کونسلنگ کریں تاکہ ان کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ کچھ ہسپتالوں نے اب والدین کے لیے ایک خصوصی حلف نامے پر دستخط کرنا لازمی قرار دیا ہے، جس میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ وہ ٹیکہ نہ لگوانے کے سنگین طبی نتائج سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔
اس معاملے کا تلخ پہلو یہ ہے کہ والدین کا فیصلہ اکثر بچے کی ظاہری صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، جبکہ اندرونی خطرات کئی ہفتوں تک خاموش رہ سکتے ہیں۔ جب تک علامات ظاہر ہوتی ہیں، تب تک صورتحال بہت نازک ہو چکی ہوتی ہے اور فوری سرجری یا خون کی منتقلی کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔
