اسلام آباد: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ‘B-’ سے بڑھا کر ‘B’ کر دی ہے۔ ایجنسی نے پاکستان کے لیے مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھتے ہوئے ادارہ جاتی استحکام، معاشی اصلاحات اور میکرو اکنامک استحکام میں بہتری کو ریٹنگ میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔
ایس اینڈ پی کے مطابق پاکستان میں سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول میں بہتری آئی ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے مشکل معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے۔ ایجنسی نے خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حمایت سے جاری اصلاحات نے پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام بحال کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے اور مالی و بیرونی دباؤ کم کرنے میں مدد دی ہے۔
ایس اینڈ پی نے حکومت کی جانب سے ٹیکس بیس وسیع کرنے اور محصولات میں اضافے کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ایجنسی کے مطابق بہتر ریونیو وصولی اور مالیاتی استحکام کی پالیسیوں سے ملک کے قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی آنے کی توقع ہے۔
ایجنسی نے مزید کہا کہ مسلسل سرکاری مالی معاونت پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے اور آئندہ 12 ماہ کے دوران کمرشل کریڈٹ لائنز کو رول اوور کرنے میں مدد دے گی۔
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک 2019 سے ‘B-’ ریٹنگ پر تھا۔ تاہم، ایس اینڈ پی نے خبردار کیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط میں کمزوری یا معاشی اصلاحات سے پیچھے ہٹنے کی صورت میں مستقبل میں ریٹنگ پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے اور پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ سے فنڈز حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، تاہم ملک کو اب بھی قرضوں، مالیاتی دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں سمیت کئی بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
