کولمبو — سری لنکا کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ’ایل نینو‘ کے اثرات سے ملک کو شدید موسمیاتی تغیرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین نے طویل خشک سالی اور اس کے فوراً بعد تباہ کن سیلابی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
جزیرہ نما ملک کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت اور پن بجلی پر ہے۔ ایسے میں غیر متوقع موسمی تبدیلیوں نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ وزارت توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ اہم آبی ذخائر میں پانی کی سطح پہلے ہی تشویشناک حد تک کم ہو رہی ہے۔
ایک سینیئر ماہر موسمیات نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک دوہرے بحران کی تیاری کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف بارش کی کمی نہیں، بلکہ موسم کی غیر یقینی صورتحال ہے۔”
ملک کے زرعی شعبے پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر پیش گوئی کے مطابق خشک سالی طویل ہوتی ہے تو فصلوں کی آبپاشی کے نظام بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس کے برعکس، ایل نینو کے آخری مراحل میں ہونے والی شدید بارشیں تیار فصلوں کو تباہ کر سکتی ہیں، جس سے غذائی تحفظ کا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
حکومت نے ڈیم آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ پن بجلی کی پیداوار اور آبپاشی کے پانی کی فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔ یہ ایک ایسا نازک عمل ہے جس میں غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔
سری لنکا کی معیشت ابھی حال ہی میں دیوالیہ پن کے بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر زرعی پیداوار متاثر ہوئی تو درآمدات پر انحصار بڑھے گا، جس سے ملک کے پہلے سے کمزور زر مبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔
ادھر محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے نمٹنے کے پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ مرکزی پہاڑی علاقوں میں ماضی میں آنے والے سیلابوں کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے امدادی ٹیموں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
کولمبو میں حکومتی سطح پر عوام سے پانی کی بچت کی اپیل کی گئی ہے اور بجلی کی ممکنہ لوڈ شیڈنگ کے لیے بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ کیا یہ اقدامات سری لنکا کی نازک معیشت کو موسمیاتی جھٹکوں سے بچا سکیں گے؟ اس کا جواب آنے والے چند ماہ میں ملے گا۔
