مستونگ — مستونگ کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کا محافظ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
یہ واقعہ مرکزی شاہراہ پر پیش آیا جو طویل عرصے سے سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھی جاتی ہے۔ سیشن جج ذوالفقار باریچ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ حملہ آوروں نے انہیں گھیرے میں لیا اور خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جج اور ان کے محافظ کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔
مقامی پولیس نے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد قریبی پہاڑی اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ حملہ بلوچستان میں سیکیورٹی کے سنگین خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ صوبے میں عدالتی افسران اور سرکاری اہلکار طویل عرصے سے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ کوئٹہ کو دیگر اضلاع سے ملانے والی اس شاہراہ پر گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اب اعلیٰ حکام کے لیے سفری پروٹوکول کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اب تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
اس حملے کو محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں وکلاء برادری کے لیے یہ ایک اور افسوسناک یاد دہانی ہے کہ صوبے کی نچلی عدالتوں میں فرائض سرانجام دینا کس قدر پرخطر کام ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی پولیس چیف سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا، لیکن مقتولین کے لواحقین اور مقامی وکلاء حکومت کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کے دعووں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد صوبے بھر کی وکلاء تنظیموں نے ججوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی پر عدالتوں کے بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے۔
