صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر میں آج سے شروع ہونے والی موسلادھار بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ موسمی نظام ہفتے کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے صوبے کے شہری اور دیہی انفراسٹرکچر کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور ملحقہ اضلاع اس موسمی سسٹم کی زد میں ہیں۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق شدید بارشیں نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا باعث بن سکتی ہیں—ایک ایسا دیرینہ مسئلہ جس کے سامنے شہر کا بوسیدہ نکاسی آب کا نظام اکثر بے بس دکھائی دیتا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو ٹیمیں متحرک کرنے کا حکم دیا ہے۔ خاص طور پر کراچی کے وسطی اور جنوبی اضلاع میں ڈی واٹرنگ پمپس کی تنصیب کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ پچھلے مون سون کی طرح سڑکیں تالاب نہ بن جائیں۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ہنگامی مشینری کو بروقت حساس مقامات پر پہنچایا جا سکے۔”
شہری مراکز کے علاوہ، یہ الرٹ سندھ کی زرعی بیلٹ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کیونکہ تیز ہواؤں کے ساتھ آنے والی بارشیں بجلی کے گرڈ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے آنے والی نمی اور بالائی علاقوں میں موجود مغربی ہواؤں کا ٹکراؤ اس بارش کی شدت کا سبب بن رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے اپنی تیاریوں کا دعویٰ تو کر دیا ہے، لیکن اصل امتحان پہلی بڑی بارش کے بعد شروع ہوگا۔ لاکھوں شہریوں کے لیے اگلے 48 گھنٹے سڑکوں پر پانی اور بجلی کی ممکنہ بندش کے باعث آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں۔
اتھارٹی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور سائن بورڈز سے دور رہیں، اور موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں۔
