ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر موجود خلا بازوں کے لیے جاری کیا گیا انخلا کا الرٹ واپس لے لیا ہے، کیونکہ بعد ازاں ماہرین نے جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خلائی اسٹیشن یا عملے کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔
یہ الرٹ ایک ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر جاری کیا گیا تھا۔ حفاظتی ضوابط کے تحت خلا بازوں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی جبکہ انجینئرز اور فلائٹ کنٹرولرز صورتحال کا تفصیلی تجزیہ کرتے رہے۔
تمام دستیاب معلومات اور تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں تھا کہ عملے یا خلائی اسٹیشن کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ اس کے بعد انخلا کا الرٹ منسوخ کر دیا گیا اور خلا بازوں کو اپنی معمول کی سائنسی اور آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کرتا ہے اور ایک جدید تحقیقی تجربہ گاہ کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں خلا باز مائیکرو گریویٹی میں مختلف سائنسی تجربات انجام دیتے ہیں۔ اس اسٹیشن کی حفاظت میں شامل تمام خلائی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔
خلائی اسٹیشن پر ہنگامی حالات کے لیے مخصوص حفاظتی طریقہ کار موجود ہیں۔ اگر خلائی ملبے، تکنیکی خرابی، ہوا کے اخراج یا کسی اور ممکنہ خطرے کا خدشہ پیدا ہو تو خلا بازوں کو فوری انخلا کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ عموماً اسٹیشن سے منسلک خلائی جہازوں میں منتقل ہو جاتے ہیں، جو ضرورت پڑنے پر ہنگامی انخلا کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
خلائی حکام کے مطابق اس نوعیت کے احتیاطی الرٹس معمول کی حفاظتی کارروائیوں کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کا مقصد عملے کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ الرٹ کا جلد واپس لیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نگرانی کے نظام اور زمینی کنٹرول ٹیمیں خطرات کا بروقت اور مؤثر انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ خلا میں مستقل طور پر آباد تحقیقی مرکز کو چلانا ایک پیچیدہ کام ہے، جہاں معمولی خدشات کو بھی انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے تاکہ خلا بازوں اور قیمتی سائنسی آلات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
