ملک بھر میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچوں کے استحصال کے 1900 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی ایک نمایاں تنظیم کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ نے معاشرے میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے تشویشناک حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔
رپورٹ میں ان واقعات کو جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنسی استحصال کے کیسز سب سے زیادہ ہیں، جو کل واقعات کا 40 فیصد سے زائد حصہ بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ان کیسز کی ہے جو رپورٹ ہوئے، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات سماجی دباؤ کی وجہ سے سامنے ہی نہیں آتے۔
تحقیقی رپورٹ میں شامل ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ "یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک منظم ناکامی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گھر، جسے بچے کا محفوظ ترین ٹھکانہ سمجھا جاتا تھا، اب وہیں سب سے زیادہ تشدد ہو رہا ہے۔”
اعداد و شمار کے مطابق شہری مراکز میں واقعات کی شرح زیادہ ہے، تاہم دیہی علاقوں میں رپورٹنگ کا نظام کمزور ہونے کی وجہ سے وہاں کے کیسز سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بن پاتے۔ بہت سے اضلاع میں متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف کے حصول میں سماجی بدنامی اور قانونی معاونت کے فقدان جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین کے باوجود، ان پر عمل درآمد کا خلا وسیع ہے۔ مختلف صوبوں کے پولیس ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ہزاروں شکایات درج ہوتی ہیں، لیکن مجرموں کو سزا دلانے کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ اس صورتحال نے مجرموں کو ایک طرح کا تحفظ فراہم کر رکھا ہے، جس کے باعث وہ بغیر کسی خوف کے اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں آن لائن استحصال کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ بچوں کو آن لائن پھنسانے اور ان سے متعلق غیر اخلاقی مواد کی ترسیل نے روایتی پولیسنگ کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ڈیجیٹل شکاریوں کی تکنیکی مہارت کے مقابلے میں تاحال پیچھے نظر آتے ہیں۔
حقوقِ اطفال کے علمبرداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محض پالیسی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا قیام یقینی بنایا جائے اور فرنٹ لائن پر موجود پولیس اہلکاروں کے لیے لازمی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔
جب تک قانونی نظام ان مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نہیں نمٹاتا اور متاثرین کے لیے فوری انصاف کا راستہ ہموار نہیں ہوتا، تشدد کا یہ سلسلہ تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔ فی الحال، ہزاروں بچے ایک ایسے نظام کے رحم و کرم پر ہیں جو تاحال ان کی مکمل حفاظت کا ضامن نہیں بن سکا۔
