وزیراعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت قومی اسمبلی میں انتہائی معمولی اکثریت کے سہارے کھڑی ہے۔ اگرچہ حکومت کی باگ ڈور مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں ہے، مگر آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حمایت ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر یہ حکومت ٹکی ہوئی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی نے اپنی حمایت واپس لی، تو موجودہ سیٹ اپ کو فوری طور پر بقا کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جائے تو صورتحال واضح ہے۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 169 ووٹ درکار ہوتے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس 111 نشستیں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان، پی ایم ایل (ق) اور دیگر چھوٹے اتحادیوں کو شامل کر کے بھی حکومتی اتحاد پیپلز پارٹی کی 68 نشستوں کے بغیر 169 کا ہندسہ عبور کرنے سے قاصر ہے۔
پیپلز پارٹی کے الگ ہوتے ہی شریف انتظامیہ کا آئینی تحفظ ختم ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں حکومت نہ تو بجٹ پاس کر سکے گی، نہ ہی اہم مالیاتی بل منظور کر پائے گی اور نہ ہی تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کے قابل رہے گی۔ پارلیمانی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت اقلیت میں رہ کر زیادہ دیر تک نہیں چل سکی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وقتاً فوقتاً اپنے اتحادیوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ "ہم کابینہ کا حصہ نہیں، مگر نظام کو سہارا دے رہے ہیں۔” یہ حمایت نظریاتی نہیں بلکہ سودے بازی پر مبنی ہے۔ پیپلز پارٹی کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں وفاقی فیصلوں میں کتنا اختیار مل رہا ہے اور سندھ میں ان کے مفادات کتنے محفوظ ہیں۔ جب بھی پی پی پی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، وہ حمایت واپس لینے کی دھمکی کو بطور سیاسی دباؤ استعمال کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے مہینوں تک عسکری اسٹیبلشمنٹ—جس نے بڑی حد تک اس اتحاد کو جوڑا—کے تقاضوں اور پیپلز پارٹی کے بدلتے موڈ کے درمیان توازن قائم رکھا ہے۔ تاہم، اب یہ دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور معاشی بحران پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔
اگر پیپلز پارٹی نے اتحاد سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو مسلم لیگ (ن) کے پاس راستے بہت محدود ہوں گے۔ وہ آزاد ارکان یا اپوزیشن بنچوں سے ناراض ارکان کو توڑ کر نئی صف بندی کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن ایسے اقدامات قانونی پیچیدگیوں اور عوامی ردعمل کے باعث انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسرا راستہ قبل از وقت انتخابات کا ہے، جس سے بچنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اب تک ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔
فی الحال حکومت قائم ہے، جس کی بنیادی وجہ دونوں جماعتوں کا مشترکہ خوف ہے کہ اگر یہ اتحاد ٹوٹا تو سیاسی خلا پیدا ہوگا جس کا فائدہ اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حکومت کا استحکام محض ایک وقتی سمجھوتہ ہے۔
جب تک پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت کی کنجی ہے، شہباز شریف صرف ملک نہیں چلا رہے، بلکہ ایک ایسی مسلسل اور ہائی پروفائل سودے بازی میں مصروف ہیں جہاں ایک غلط قدم قبل از وقت انتخابات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
