کراچی: مبینہ منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کو متعدد منشیات مقدمات اور ایک قتل کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ ملزمہ کو جمعہ کے روز سخت سیکیورٹی میں سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں متعلقہ مجسٹریٹس کے سامنے پیش کیا گیا۔
عدالتی کارروائی ان مقدمات میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ہوئی جو بغدادی، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ/سی آئی اے، گزری اور درخشاں تھانوں میں درج ہیں۔ پراسیکیوشن نے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالتوں نے اسے منظور نہیں کیا اور تفتیشی افسران کو ہدایت دی کہ تحقیقات مکمل کر کے چالان جمع کرایا جائے۔
انمول کو رواں ماہ کراچی میں منشیات اور غیر لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کے الزامات سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ ایک منظم منشیات سپلائی نیٹ ورک سے منسلک تھی اور اس کے خلاف پہلے ہی ایک درجن سے زائد مقدمات درج تھے۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران کوکین، کیمیکلز، دیگر منشیات اور ایک پستول برآمد کیا گیا۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ ملزمہ منظم چین کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی، جس میں آن لائن آرڈرز اور مخصوص رائیڈرز کا استعمال بھی شامل تھا، خاص طور پر کلفٹن اور ڈی ایچ اے جیسے علاقوں میں۔
یہ کیس اس وجہ سے بھی توجہ کا مرکز بنا کہ ملزمہ کو پہلے عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔ اس ویڈیو کے بعد پولیس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے اور اعلیٰ حکام نے ایس او پیز کی مبینہ خلاف ورزی پر انکوائری کا حکم دیا۔
پچھلی سماعتوں کے دوران انمول نے الزامات کی تردید کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اس پر مختلف افراد کے نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے باضابطہ گرفتاری ظاہر کرنے سے پہلے حراست میں رکھا گیا۔ عدالت نے اس سے قبل بغدادی تھانے میں درج قتل کیس میں اس کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی تھی، جبکہ کئی دیگر مقدمات میں اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اب معاملہ اگلے قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تفتیشی افسران کو تحقیقات مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کچھ متعلقہ ریمانڈز 30 مئی کو ختم ہوں گے، اس لیے کیس دوبارہ جلد عدالت میں آ سکتا ہے۔
یہ الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور ملزمہ کو تاحال مجرم قرار نہیں دیا گیا۔
