اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت متوقع ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف چینی وزیراعظم لی چیانگ کی دعوت پر چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ مختصر اعلامیے میں دورے کی تفصیلی مصروفیات نہیں بتائی گئیں، تاہم اسے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی رابطوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ وزیراعظم 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے اور 24 مئی کو بزنس ٹو بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے۔ اس فورم میں تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری لانے، ڈیجیٹل تعاون بڑھانے اور چین کے ساتھ معاشی روابط کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد بارہا بیجنگ کو اپنا اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتا رہا ہے، اور یہ دورہ اسی تعلق کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت متوقع ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت پاکستان چین تعلقات اور مشترکہ ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرے گی۔
وزیراعظم کا یہ دورہ صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ چین کے بعد ہو رہا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک نے اہم معاشی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ اس لحاظ سے شہباز شریف کا دورہ ان معاملات کو آگے بڑھانے اور عملی شکل دینے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اس دورے کا معاشی پہلو سب سے زیادہ اہم ہوگا۔ اسلام آباد صنعت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور برآمدی شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے۔ بزنس ٹو بزنس فورم پاکستانی اور چینی کمپنیوں کو حکومتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر براہ راست شراکت داری کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری بھی وسیع تر بات چیت کا حصہ رہنے کا امکان ہے۔ سی پیک کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، مگر پاکستان اب صنعتی تعاون، زراعت، ٹیکنالوجی اور خصوصی اقتصادی زونز پر زیادہ توجہ دینا چاہتا ہے۔
سفارتی لحاظ سے بھی یہ دورہ اہم ہے۔ خطے میں بدلتی صورتحال، عالمی معاشی دباؤ اور نئی صف بندیوں کے باعث پاکستان کے لیے چین کے ساتھ تعلقات مزید اہم ہو گئے ہیں۔ چین کے لیے بھی پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک دیرینہ شراکت دار اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کا اہم حصہ ہے۔
اسلام آباد اس دورے کو پاک چین “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کرے گا۔ مگر اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ آیا اس دورے سے سرمایہ کاری، تجارت اور منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آتی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی کو چین روانہ ہوں گے اور چار روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد 26 مئی کو واپس آئیں گے۔
