بھارت نے 18 اپریل 2026 کو ایران کے سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا، جب آبنائے ہرمز کے قریب بھارتی پرچم والے ٹینکروں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے آبنائے پر دوبارہ “سخت نگرانی اور کنٹرول” نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس سے خلیجی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔
فوری وجہ یہ تھی کہ آبنائے پر ایران کے دوبارہ سخت کنٹرول کے دوران بھارت سے منسلک جہاز نشانے پر آئے۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق علاقے میں موجود جہازوں نے فائرنگ کی اطلاع دی، کم از کم ایک ٹینکر پر اس وقت گولیاں چلائی گئیں جب وہ گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ بعض جہازوں کو راستے ہی میں رخ موڑنا پڑا۔ بھارتی حکام نے اس کے بعد ایرانی سفیر محمد فطالی کو طلب کر کے مطالبہ کیا کہ بھارتی جہازوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔
اس واقعے نے بھارت کے لیے معاملے کو محض سفارتی تنازع نہیں رہنے دیا۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی رسد کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، اور موجودہ رپورٹنگ کے مطابق دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ بھارت بھی اپنی خام تیل کی درآمدات کے لیے اس راستے پر گہرا انحصار رکھتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر عسکری یا بحری رکاوٹ براہِ راست اس کی توانائی سلامتی اور تجارتی نقل و حرکت کو متاثر کرتی ہے۔
ایران نے اس نئی سختی کو امریکہ کی جاری بحری ناکہ بندی سے جوڑا ہے۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ جب تک ایرانی بندرگاہوں اور جہاز رانی پر دباؤ برقرار رہے گا، آبنائے ہرمز بھی معمول کے مطابق نہیں چل سکتی۔ اسی تناظر میں ایران نے اعلان کیا کہ گزرگاہ اب دوبارہ مسلح افواج کی سخت نگرانی میں ہوگی، اور بعض رپورٹوں کے مطابق صرف وہی تجارتی جہاز آگے بڑھ سکیں گے جو ایران کی مقرر کردہ شرائط پوری کریں۔
بھارت کے لیے اس واقعے کی ایک اور اہم جہت یہ بھی ہے کہ چند روز پہلے تک تہران کی طرف سے نسبتاً نرم اشارے دیے جا رہے تھے۔ ایرانی سفیر نے نئی دہلی میں حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں سہولت دی جا رہی ہے اور بھارت کے ساتھ اچھے رابطے موجود ہیں۔ ایسے میں موجودہ فائرنگ اور بھارتی احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ زمینی اور بحری صورتِ حال بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
