اسلام آباد: پاکستان میں ستمبر کے دوران مہنگائی تقریباً دگنی ہو کر 5.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 10 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب سے زرعی رسد متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں نیا جھٹکا آیا۔
اگست میں مہنگائی کی شرح 2.96 فیصد رہی تھی، یوں صرف ایک ماہ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ سال ستمبر 2024 میں یہ شرح 6.93 فیصد تھی۔
اہم وجہ خوراک کی مہنگائی رہی جو اگست میں منفی شرح (1.79- فیصد) کے بعد ستمبر میں 5.46 فیصد بڑھ گئی۔ گھریلو ضروریات کی اشیاء میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا: ٹماٹر کی قیمتوں میں 65 فیصد، گندم میں 37.6 فیصد، آٹے میں 34.4 فیصد، پیاز میں 28.5 فیصد اور سبزیوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ چاول، دالیں، چینی، مکھن اور انڈے بھی مہنگے ہوئے۔ البتہ مرغی اور ماش کی دال میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
خوراک کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات 2.5 فیصد سے بڑھ کر 4.2 فیصد ہو گئے، گھریلو سامان و مرمت کی لاگت 3.5 فیصد سے بڑھ کر 4.13 فیصد تک جا پہنچی، جب کہ ہاؤسنگ اور یوٹیلیٹیز 3.65 فیصد پر مستحکم رہیں۔ کپڑے اور جوتے کی قیمتیں معمولی کم ہو کر 8 فیصد پر آ گئیں جبکہ ہوٹل اور ریستوران چارجز بھی 7.2 فیصد سے کم ہو کر 6.1 فیصد پر آ گئے۔ اس کے برعکس تفریح اور ثقافت کے اخراجات مزید کم ہو کر 2.7 فیصد پر آ گئے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور اسٹیٹ بینک کی 11 فیصد پالیسی ریٹ سے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق شرح سود کو سنگل ڈجٹ میں لانا ناگزیر ہے کیونکہ حکومت کی آمدنی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی بورڈ میٹنگ 27 اکتوبر کو ہوگی جس میں نئی مانیٹری پالیسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔
ستمبر میں بنیادی مہنگائی (خوراک و توانائی کے بغیر) 7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اگست کے 6.9 فیصد کے قریب ہے، تاہم ستمبر 2024 کے 9.3 فیصد سے کم ہے۔ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں 5.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال بالترتیب 6.9 فیصد اور 2.4 فیصد تھی۔ وہول سیل پرائس انڈیکس (WPI) میں ستمبر میں صرف 0.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ اضافہ 1.9 فیصد تھا.
