آٹھ برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود، میانمر سے 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمان ظلم و جبر سے فرار کے بعد اب بھی غیر یقینی حالات کا شکار ہیں۔ اس ہفتے نیویارک میں جاری اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں اس انسانی المیے اور سیاسی تعطل پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اقلیتوں میں شمار ہونے والے ان پناہ گزینوں کو بے بسی میں جکڑ رکھا ہے۔
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز میں کمی کے باعث بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا پناہ گزین بھوک کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے انتباہ دیا ہے کہ راشن کو گھٹا کر صرف 6 ڈالر فی کس ماہانہ تک محدود کرنا پڑ سکتا ہے، جو ہزاروں خاندانوں کو خطرناک حد تک مجبوری کے حالات میں دھکیل دے گا۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے عالمی رہنماؤں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس بحران کی جڑ میانمر کے اندر ہے۔ ان کا کہنا تھا: "ظلم کے خاتمے اور شہریت کے مساوی حقوق کی بحالی مزید مؤخر نہیں کی جا سکتی۔” انہوں نے زور دیا کہ پائیدار سیاسی حل کے ذریعے روہنگیا کو باعزت اور محفوظ واپسی کا حق دیا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش، جو اس سال کے آغاز میں کاکس بازار کے وسیع پناہ گزین کیمپوں کا دورہ کر چکے ہیں، نے انہیں "ہماری اجتماعی ناکامی کی کڑی یاد دہانی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ روہنگیا کی محفوظ اور رضاکارانہ واپسی ہی اصل حل ہے، لیکن اس کے لیے درکار حالات میانمر میں ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ جب تک یہ ممکن نہیں ہوتا، تب تک انسانی ہمدردی کی امداد کو جاری رکھا جائے اور پناہ کے طلبگاروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد میانمر مزید افراتفری کا شکار ہے، جہاں لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں ہلاک، اور روہنگیا سمیت نسلی اقلیتیں منظم ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ تشدد، ماورائے عدالت قتل، اور اسکولوں، اسپتالوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کی اطلاعات نے ممکنہ انسانیت سوز جرائم پر عالمی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
مایوسی کے باوجود انسانی حقوق کے علمبردار میانمر کے عوام کی استقامت کو اُمید کی کرن قرار دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے کہا کہ عوام کی ہمت یہ پیغام دیتی ہے کہ "یہ ڈراؤنا خواب ایک دن ضرور ختم ہوگا۔”
اب جب کہ عالمی رہنما نیویارک میں جمع ہیں، سوال صرف امدادی رقوم کا نہیں رہا بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی برادری کے پاس وہ سیاسی عزم موجود ہے جو ظلم کا خاتمہ کرے، حقوق بحال کرے اور ایک ایسے بحران کو ختم کرے جو عالمی بے عملی کی علامت بن چکا ہے۔
