بیجنگ کے مرکزی کاروباری ضلع میں منگل کی صبح ایک چھوٹا نجی طیارہ شہر کی ایک بلند و بالا عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے بعد علاقے میں دھواں پھیل گیا اور سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9:15 بجے پیش آیا۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ عمارت اور اس کے اطراف میں موجود ہزاروں دفتری ملازمین کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ سکیورٹی حکام نے امدادی گاڑیوں کی آمدورفت یقینی بنانے کے لیے قریبی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔
بیجنگ میونسپل بیورو آف پبلک سکیورٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ایک نجی سنگل انجن والا جہاز تھا۔ بیجنگ کا یہ علاقہ انتہائی حساس شمار ہوتا ہے جہاں پروازوں کی سخت مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور عام نجی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی خلاف ورزی تقریباً ناممکن سمجھی جاتی ہے۔
قریبی مالیاتی ادارے میں کام کرنے والے لی وی، جنہیں واقعے کے فوراً بعد عمارت سے نکالا گیا، نے بتایا: "ہم نے ایک زوردار دھماکہ سنا اور پھر شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ پہلے تو ہمیں لگا کہ شاید تعمیراتی کام کے دوران کوئی حادثہ ہوا ہے، لیکن پھر ہم نے ملبہ نیچے گرتے دیکھا۔”
حادثے کے نتیجے میں عمارت کے بیرونی شیشوں اور ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ عمارت کے اندر موجود خودکار آگ بجھانے والے نظام نے فوری طور پر کام شروع کر دیا تھا، تاہم حکام نے تاحال عمارت کے اندر جانی نقصان یا پائلٹ کی حالت کے بارے میں کوئی حتمی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرول حکام نے شمالی خطے میں تمام نجی پروازوں کو تاحکم ثانی گراؤنڈ کر دیا ہے۔ ماہرینِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی بلند عمارتوں کے درمیان چلنے والی تیز ہواؤں اور کرنٹ کے باعث پائلٹ کو تکنیکی خرابی کی صورت میں قابو پانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
وزارتِ پبلک سکیورٹی نے جائے وقوعہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مرکزی کاروباری ضلع کے داخلی راستے بدستور بند ہیں، جس کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے۔
حکام کی جانب سے سہ پہر تک عمارت کی ساختی مضبوطی اور پائلٹ کی شناخت کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ فی الحال، بیجنگ کا آسمان ہنگامی لائٹس سے منور ہے، جو حالیہ برسوں میں دارالحکومت کی سکیورٹی میں سب سے بڑی مداخلت کی نشاندہی کر رہا ہے۔
