MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
internationalتازہ ترین

افغانستان میں طلاق سے متعلق نیا طالبان حکم نامہ کم عمری کی شادی کو قانونی شکل دے سکتا ہے: اقوام متحدہ

Last updated: مئی 22, 2026 4:04 شام
Ayesha Masood
Share
افغانستان میں طلاق سے متعلق نیا طالبان حکم نامہ کم عمری کی شادی کو قانونی شکل دے سکتا ہے: اقوام متحدہ
افغانستان میں طلاق سے متعلق نیا طالبان حکم نامہ کم عمری کی شادی کو قانونی شکل دے سکتا ہے: اقوام متحدہ
SHARE

کابل: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کا طلاق اور ازدواجی علیحدگی سے متعلق نیا حکم نامہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، جبکہ اس میں ایسی شقیں موجود ہیں جو کم عمری کی شادی کو قانونی حیثیت دیتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ حکم نامہ فرمان نمبر 18 یا میاں بیوی کی عدالتی علیحدگی کا ضابطہ کے نام سے افغانستان کے سرکاری گزٹ میں 14 مئی 2026 کو شائع ہوا۔ اس میں شوہر اور بیوی کے درمیان عدالتی علیحدگی کے اصول بیان کیے گئے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اس کی کئی شقیں انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے مطابق سب سے تشویشناک شقوں میں سے ایک یہ ہے کہ بلوغت کو پہنچنے والی لڑکی کی خاموشی کو شادی کی رضامندی سمجھا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ اصول آزاد اور مکمل رضامندی کے تصور کو کمزور کرتا ہے اور بچے کے بہترین مفاد کا تحفظ نہیں کرتا۔

حکم نامے میں ان لڑکیوں کی علیحدگی سے متعلق بھی شقیں شامل ہیں جو شادی کے بعد بلوغت کو پہنچتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ الفاظ اس تاثر کو جنم دیتے ہیں کہ ایسی شادیاں قانونی طور پر موجود ہو سکتی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ کم عمری کی شادی کو روکنے کے بجائے اسے باقاعدہ شکل دی جا رہی ہے۔

طالبان حکومت نے اس تنقید کو مسترد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکم نامہ اسلامی قانون کے مطابق ہے اور لڑکیوں کی جبری شادی پہلے ہی ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔ مگر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف کاغذ پر جبری شادی کی پابندی نہیں، بلکہ وہ زمینی حقیقت ہے جس میں افغان لڑکیاں رہ رہی ہیں: تعلیم تک محدود رسائی، نقل و حرکت پر پابندیاں، عدالتوں تک کمزور رسائی اور خاندان یا مقامی حکام کا دباؤ۔

2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے خواتین اور لڑکیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔ لڑکیوں کو ثانوی اسکول اور یونیورسٹی سے روک دیا گیا ہے، بہت سی خواتین کو سرکاری اور عوامی شعبوں کی ملازمتوں سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ سفر، لباس اور عوامی مقامات پر موجودگی سے متعلق قواعد نے روزمرہ زندگی کو مزید محدود کر دیا ہے۔

ایسے ماحول میں طلاق یا علیحدگی کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے خطرات اور بڑھ جاتے ہیں۔ افغانستان میں قانونی راستے پہلے ہی محدود تھے، اور نیا حکم نامہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایسی شادیوں کو چیلنج کرنا مزید مشکل بنا سکتا ہے جن میں ان کی آزادانہ رضامندی شامل نہ ہو۔ حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ کم عمر دلہنوں کے پاس نکلنے کا محفوظ راستہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ افغان قوانین اور عدالتی طریقہ کار کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق بنائیں، خاص طور پر بچوں کے تحفظ اور خواتین کی قانون کے سامنے برابری کے حوالے سے۔ یہ انتباہ طالبان کے خواتین سے متعلق اقدامات پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ میں ایک اور اضافہ ہے۔

کم عمری کی شادی صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک لڑکی کی تعلیم ختم کر سکتی ہے، اسے کم عمری کے حمل کے خطرات سے دوچار کر سکتی ہے، گھریلو تشدد کا امکان بڑھا سکتی ہے اور اسے غربت کے دائرے میں قید کر سکتی ہے۔ افغانستان جیسے ملک میں، جہاں انسانی بحران پہلے ہی گہرا ہے، اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

یہ حکم نامہ طالبان کے عدالتی نظام کو ایک بار پھر عالمی توجہ میں لے آیا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ عدالتیں طلاق کے مقدمات کیسے سنیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا افغان لڑکیوں کو اس عمر سے پہلے شادی سے بچایا جائے گا جب وہ آزادانہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوں۔

فی الحال اقوام متحدہ کا پیغام واضح ہے: نئے قوانین افغان خواتین اور لڑکیوں کو ایک ایسے نظام میں مزید دھکیل سکتے ہیں جہاں ان کی رضامندی، حفاظت اور مستقبل مکمل طور پر محفوظ نہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article بنگلہ دیش میں خسرے کی مہلک وبا، ہزاروں بچے متاثر بنگلہ دیش میں خسرے کی مہلک وبا، ہزاروں بچے متاثر
Next Article ہالینڈ اور اوڈیگارڈ کے ساتھ ناروے 28 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے لیے پُرامید ہالینڈ اور اوڈیگارڈ کے ساتھ ناروے 28 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے لیے پُرامید
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
وفاقی وزیر خزانہ 12 جون کو مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کریں گے
Economy سیاست
جون 10, 2026
جاپان کے بعد نیپال نے بھی بھارتی آموں پر پابندی عائد کر دی
جاپان کے بعد نیپال نے بھی بھارتی آموں پر پابندی عائد کر دی
کاروبار اور تجارت
جون 10, 2026
فیفا ورلڈ کپ 2026: ڈرون حملوں کے خطرات، سکیورٹی اداروں کی دوڑ شروع
کھیل
جون 10, 2026
پاکستان میں شدید گرمی کا زور ٹوٹنے کا امکان: محکمہ موسمیات نے گرد و باد اور طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کر دی
پاکستان میں شدید گرمی کا زور ٹوٹنے کا امکان: محکمہ موسمیات نے گرد و باد اور طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کر دی
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 10, 2026
امریکی مہنگائی کے کم اعداد و شمار کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان محدود
امریکی مہنگائی کے کم اعداد و شمار کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان محدود
Economy
جون 10, 2026
قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان، شان مسعود کی کپتانی خطرے میں
بریکنگ نیوز کھیل
جون 10, 2026

You Might Also Like

تازہ ترینموسمیات و ماحولیات

ایران کے سب سے بڑے آئل ٹرمینل ‘خارک’ کے قریب تیل کا بڑا ریلا، سمندری حیات کو خطرہ

By Haris Ali
سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز
تازہ ترینموسمیات و ماحولیات

سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز

By Ayesha Masood
بھارت میں مودی نے اپوزیشن کے زیرِ اقتدار مغربی بنگال میں ’ریکارڈ‘ فتح کا جشن منایا
تازہ ترینسیاست

بھارت میں مودی نے اپوزیشن کے زیرِ اقتدار مغربی بنگال میں ’ریکارڈ‘ فتح کا جشن منایا

By Ayesha Masood
موسمی تبدیلی کی جانب تیز پیش رفت کا مطلب ہے مالی رکاوٹیں دور کرنا
تازہ ترینموسمیات و ماحولیات

موسمی تبدیلی کی جانب تیز پیش رفت کا مطلب ہے مالی رکاوٹیں دور کرنا

By Ayesha Masood
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?