کابل: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کا طلاق اور ازدواجی علیحدگی سے متعلق نیا حکم نامہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، جبکہ اس میں ایسی شقیں موجود ہیں جو کم عمری کی شادی کو قانونی حیثیت دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ حکم نامہ فرمان نمبر 18 یا میاں بیوی کی عدالتی علیحدگی کا ضابطہ کے نام سے افغانستان کے سرکاری گزٹ میں 14 مئی 2026 کو شائع ہوا۔ اس میں شوہر اور بیوی کے درمیان عدالتی علیحدگی کے اصول بیان کیے گئے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اس کی کئی شقیں انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے مطابق سب سے تشویشناک شقوں میں سے ایک یہ ہے کہ بلوغت کو پہنچنے والی لڑکی کی خاموشی کو شادی کی رضامندی سمجھا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ اصول آزاد اور مکمل رضامندی کے تصور کو کمزور کرتا ہے اور بچے کے بہترین مفاد کا تحفظ نہیں کرتا۔
حکم نامے میں ان لڑکیوں کی علیحدگی سے متعلق بھی شقیں شامل ہیں جو شادی کے بعد بلوغت کو پہنچتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ الفاظ اس تاثر کو جنم دیتے ہیں کہ ایسی شادیاں قانونی طور پر موجود ہو سکتی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ کم عمری کی شادی کو روکنے کے بجائے اسے باقاعدہ شکل دی جا رہی ہے۔
طالبان حکومت نے اس تنقید کو مسترد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکم نامہ اسلامی قانون کے مطابق ہے اور لڑکیوں کی جبری شادی پہلے ہی ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔ مگر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف کاغذ پر جبری شادی کی پابندی نہیں، بلکہ وہ زمینی حقیقت ہے جس میں افغان لڑکیاں رہ رہی ہیں: تعلیم تک محدود رسائی، نقل و حرکت پر پابندیاں، عدالتوں تک کمزور رسائی اور خاندان یا مقامی حکام کا دباؤ۔
2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے خواتین اور لڑکیوں پر وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔ لڑکیوں کو ثانوی اسکول اور یونیورسٹی سے روک دیا گیا ہے، بہت سی خواتین کو سرکاری اور عوامی شعبوں کی ملازمتوں سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ سفر، لباس اور عوامی مقامات پر موجودگی سے متعلق قواعد نے روزمرہ زندگی کو مزید محدود کر دیا ہے۔
ایسے ماحول میں طلاق یا علیحدگی کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے خطرات اور بڑھ جاتے ہیں۔ افغانستان میں قانونی راستے پہلے ہی محدود تھے، اور نیا حکم نامہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایسی شادیوں کو چیلنج کرنا مزید مشکل بنا سکتا ہے جن میں ان کی آزادانہ رضامندی شامل نہ ہو۔ حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ کم عمر دلہنوں کے پاس نکلنے کا محفوظ راستہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ افغان قوانین اور عدالتی طریقہ کار کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق بنائیں، خاص طور پر بچوں کے تحفظ اور خواتین کی قانون کے سامنے برابری کے حوالے سے۔ یہ انتباہ طالبان کے خواتین سے متعلق اقدامات پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ میں ایک اور اضافہ ہے۔
کم عمری کی شادی صرف قانونی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک لڑکی کی تعلیم ختم کر سکتی ہے، اسے کم عمری کے حمل کے خطرات سے دوچار کر سکتی ہے، گھریلو تشدد کا امکان بڑھا سکتی ہے اور اسے غربت کے دائرے میں قید کر سکتی ہے۔ افغانستان جیسے ملک میں، جہاں انسانی بحران پہلے ہی گہرا ہے، اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہ حکم نامہ طالبان کے عدالتی نظام کو ایک بار پھر عالمی توجہ میں لے آیا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ عدالتیں طلاق کے مقدمات کیسے سنیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا افغان لڑکیوں کو اس عمر سے پہلے شادی سے بچایا جائے گا جب وہ آزادانہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوں۔
فی الحال اقوام متحدہ کا پیغام واضح ہے: نئے قوانین افغان خواتین اور لڑکیوں کو ایک ایسے نظام میں مزید دھکیل سکتے ہیں جہاں ان کی رضامندی، حفاظت اور مستقبل مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
