تہران: خلیج فارس میں ایران کے سب سے اہم آئل ٹرمینل، جزیرہ خارک کے ساحل پر تیل کا ایک بڑا ریلا (Oil Slick) دیکھا گیا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر نے اس اخراج کی تصدیق کی ہے، جس سے ایران کی خام تیل کی 90 فیصد برآمدات سنبھالنے والے اس حساس مقام پر ماحولیاتی اور تکنیکی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
تیل کا یہ پھیلاؤ رواں ہفتے جزیرے کی مغربی لوڈنگ جیٹیوں کے قریب شروع ہوا۔ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق یہ ریلا کئی کلومیٹر پر محیط ہے اور سمندری لہروں کے ساتھ جنوب مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام نے ابھی تک تیل کے اخراج کی صحیح مقدار کا اعلان نہیں کیا، لیکن مقامی سمندری رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ اس کی ممکنہ وجہ سمندر کی تہہ میں موجود کسی پائپ لائن کا پھٹنا ہو سکتا ہے۔
تہران کے لیے یہ صورتحال معاشی طور پر انتہائی سنگین ہے۔ جزیرہ خارک ایرانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے؛ یہاں لوڈنگ کی صلاحیت میں معمولی سی رکاوٹ بھی ملک کے زرمبادلہ کے سب سے بڑے ذریعے کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ عالمی منڈیاں، جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث دباؤ میں ہیں، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس کا حساس ایکو سسٹم اس رساؤ سے شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ خلیج کا کم گہرا اور گرم پانی تیل کے اجزاء کو توڑنے کے بجائے انہیں تہہ میں بٹھا دیتا ہے، جو مونگے کی چٹانوں (Coral Reefs) اور مچھلیوں کی افزائش گاہوں کے لیے زہر ثابت ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف سمندری حیات بلکہ مقامی ماہی گیروں کا روزگار بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔
دہائیوں سے عائد عالمی پابندیوں نے ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ خارک ٹرمینل پر مرمت کا کام اکثر عارضی پیوند کاری تک محدود رہتا ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی اور پرزہ جات تک رسائی مشکل ہے۔ یہ رواں سال تیل کے اخراج کا پہلا واقعہ نہیں ہے، لیکن خلا سے نظر آنے والا اس کا پھیلاؤ بتاتا ہے کہ یہ حالیہ برسوں کا سب سے بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز جزیرے کے قریب صفائی کرنے والے چند جہاز دیکھے گئے ہیں، تاہم ان کی کارکردگی کے حوالے سے اب تک کوئی واضح رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہمیشہ کی طرح تزویراتی تنصیبات پر ہونے والے اس حادثے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ اگر اگلے 48 گھنٹوں میں اس ریلے کو قابو نہ کیا گیا تو یہ بوشہر کے ساحلی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے، جہاں ایران کا واحد سویلین ایٹمی بجلی گھر اور ایک بڑی تجارتی بندرگاہ واقع ہے۔
