یونان کے حکام آیونیئن سمندر میں جزیرے لیفکاڈا کے قریب ملنے والے ایک بغیر پائلٹ بحری جہاز نما ڈرون کی جانچ کر رہے ہیں۔ موجودہ رپورٹس کے مطابق ایک ماہی گیر نے یہ ڈرون ساحلی غار میں دیکھا، اسے کھینچ کر بندرگاہ تک لایا، اور بعد میں اسے مزید معائنے کے لیے سرزمینِ یونان کے ایک بحری اڈے پر منتقل کر دیا گیا۔
اس واقعے کی غیرمعمولی بات صرف یہ نہیں کہ ڈرون ملا، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کہاں ملا۔ لیفکاڈا یونان کے مغربی ساحل پر واقع ہے، جبکہ بحری ڈرونز کا زیادہ استعمال بحیرہ اسود میں روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ ایسا ڈرون آخر آیونیئن سمندر تک کیسے پہنچا۔
ابھی تک یونانی حکام نے اس ڈرون کے ماخذ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یونانی بحری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ساخت یوکرین کے میگورا طرز کے بحری ڈرونز سے مشابہت رکھتی ہے، جو دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ریموٹ کنٹرول جہاز ہوتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس نے بھی ملتے جلتے بحری ڈرونز تیار کیے ہیں، اس لیے حتمی نتیجہ نکالنا ابھی قبل از وقت ہے۔
فی الحال اس خبر کا اصل وزن اسی غیر یقینی میں ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ ڈرون دور دراز علاقے سے بہہ کر آیا، کہیں چھوڑ دیا گیا تھا، یا کسی اور راستے سے یونانی پانیوں تک پہنچا۔ حکام نے تاحال کوئی حتمی سرکاری نتیجہ جاری نہیں کیا۔
یہ واقعہ ایک بڑے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بحری ڈرونز اب جدید جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، خاص طور پر یوکرین جنگ میں۔ یہی وجہ ہے کہ یونان ایک اکیلے، بے نام بحری ڈرون کو بھی محض سمندری اتفاقیہ دریافت نہیں سمجھ رہا۔
