شیل نے کینیڈا کی توانائی کمپنی اے آر سی ریسورسز کو خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ مجموعی طور پر تقریباً 16.4 ارب امریکی ڈالر کا بتایا جا رہا ہے، جس میں قرض اور دیگر ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ اس سودے کے ذریعے شیل کو فوری طور پر پیداوار میں نمایاں اضافہ ملے گا اور کینیڈا کے اہم مونٹنی بیسن میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔
معاہدے کے تحت اے آر سی ریسورسز کے شیئر ہولڈرز کو ہر شیئر کے بدلے 8.20 کینیڈین ڈالر نقد کے ساتھ 0.40247 شیل شیئرز دیے جائیں گے۔ اس فارمولا کے مطابق پیشکش کی مجموعی مالیت تقریباً 32.80 کینیڈین ڈالر فی شیئر بنتی ہے، جس سے اے آر سی کی ایکویٹی ویلیو لگ بھگ 13.6 ارب امریکی ڈالر کے قریب آتی ہے۔
شیل کے لیے اس سودے کی اصل اہمیت صرف ایک بڑی خریداری نہیں، بلکہ پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہے۔ کمپنی کے مطابق اس ڈیل سے اس کے پورٹ فولیو میں تقریباً 370,000 بیرل آئل ایکویولنٹ یومیہ کا اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی شیل کو قریب 2 ارب بیرل کے مساوی اضافی ریزروز اور وسائل بھی ملیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سودے کو شیل کی طویل مدتی پیداوار بڑھانے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ شیل اب کینیڈا کے ان اثاثوں پر زیادہ زور دے رہا ہے جو نسبتاً کم لاگت، طویل المدتی اور مستحکم پیداوار فراہم کر سکتے ہیں۔ اے آر سی کے اثاثے خاص طور پر قدرتی گیس اور مائع ہائیڈروکاربن کی پیداوار کے حوالے سے اہم مانے جاتے ہیں، جبکہ مونٹنی بیسن پہلے ہی شمالی امریکا کے بڑے توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ شیل کی تقریباً ایک دہائی میں بڑی ترین خریداریوں میں سے ایک ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی توانائی کمپنیاں زیادہ محفوظ جغرافیائی علاقوں اور لمبی مدت تک آمدن دینے والے اثاثوں کی تلاش میں ہیں، کینیڈا کے وسائل شیل کے لیے ایک مضبوط اسٹریٹجک انتخاب بن کر سامنے آئے ہیں۔
دونوں کمپنیوں کے بورڈز اس معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں، تاہم اس کی تکمیل کے لیے ابھی شیئر ہولڈر، عدالت اور ریگولیٹری منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ سودہ 2026 کی دوسری ششماہی میں مکمل ہو سکتا ہے۔
سادہ لفظوں میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک کارپوریٹ خریداری نہیں، بلکہ شیل کا واضح پیغام ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں زیادہ پیداوار، زیادہ ذخائر اور کینیڈا میں زیادہ گہری موجودگی چاہتا ہے۔
