جنوبی سوڈان کی ریاست جونگلی میں منگل کے روز ایک مسافر طیارہ اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثہ پیری (Pieri) شہر کے قریب پیش آیا۔
مقامی حکام کے مطابق طیارہ مقامی چارٹر کمپنی کا تھا۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد جائے وقوعہ پر پہنچے، تاہم طیارے میں سوار کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کی اطلاع نہیں ملی۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو جوبا جانے کے لیے پرواز میں سوار ہوئے تھے۔
ایک مقامی منتظم نے ریسکیو آپریشن کے بارے میں بتایا کہ ”طیارہ ایک چھوٹا چارٹر طیارہ تھا جو دلدلی علاقے میں گرا۔ جائے وقوعہ تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔“
جنوبی سوڈان میں فضائی سفر کے حفاظتی معیارات طویل عرصے سے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ ملک کا سول ایوی ایشن ادارہ پرانے طیاروں اور دیکھ بھال کے ناقص نظام کے باعث تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ یہ حادثہ 2021 میں پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعے کی یاد تازہ کرتا ہے، جب اسی خطے میں ایک کارگو طیارہ گرنے سے 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق پائلٹ کو پیری ایئر سٹرپ سے روانگی کے فوراً بعد تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم حکام تاحال طیارے کا بلیک باکس یا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
پیری کے رہائشیوں کے لیے یہ حادثہ ان خطرات کی عکاسی کرتا ہے جو خراب سڑکوں کے باعث پرانے اور غیر منظم فضائی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے سے جڑے ہیں۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں، جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ غیر معیاری طیاروں کو گراؤنڈ کرے اور حفاظتی آڈٹ کے عمل کو سخت بنائے۔
حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کی مکمل فہرست جاری نہیں کی، کیونکہ لواحقین کو اطلاع دینے کا عمل جاری ہے۔
