امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے اگلے دور پر اب بھی غیریقینی چھائی ہوئی ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں روکا گیا جب ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ معاملہ محض ایک سفارتی دورے کی تاخیر نہیں، بلکہ اس بڑے عمل سے جڑا ہوا ہے جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری نازک جنگ بندی کو بچانا تھا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی بدھ، 22 اپریل، کو ختم ہونا تھی، جبکہ پاکستان ایک دوسرے دور کے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار تھا۔ تاہم بعد میں پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایرانی وفد کی شرکت کے بارے میں باضابطہ جواب ابھی موصول نہیں ہوا۔
ایرانی مؤقف بھی خاصا محتاط بلکہ سخت دکھائی دیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں شرکت کے بارے میں “ابھی کوئی حتمی فیصلہ” نہیں ہوا۔ ان کے مطابق امریکا کے بعض حالیہ اقدامات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے تناظر میں، تہران کے لیے قابلِ قبول نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وینس کے دورے کو اب ایک سادہ سفری تبدیلی کے بجائے مذاکراتی تعطل کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پس منظر بھی کم اہم نہیں۔ جے ڈی وینس اس سے پہلے اپریل کے دوسرے ہفتے میں اسلام آباد آ چکے تھے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل بات چیت ہوئی، مگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ اُس وقت وینس نے کہا تھا کہ ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں، جبکہ دیگر رپورٹوں میں بھی یہی بتایا گیا کہ فریقین کسی پیش رفت کے بغیر واپس لوٹ گئے۔
اس تمام صورتِ حال میں پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اسلام آباد نے خود کو ایک ثالثی مرکز کے طور پر پیش کیا اور بظاہر اب بھی چاہتا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہ ہو۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ میزبان ملک آمادہ ہونے کے باوجود آخری فیصلہ واشنگٹن اور تہران ہی نے کرنا ہے۔ اسی لیے سفارتی سرگرمی موجود ہونے کے باوجود عملی پیش رفت رکی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
فی الحال سب سے اہم بات یہی ہے کہ جے ڈی وینس کا پاکستان کا دورہ محض انتظامی وجوہات سے مؤخر نہیں ہوا۔ اصل وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ مجوزہ امریکا۔ایران مذاکرات خود غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اگر ایران باضابطہ طور پر شرکت کی تصدیق نہیں کرتا، اور امریکا بھی جنگ بندی میں مزید توسیع پر آمادہ نہیں ہوتا، تو اسلام آباد میں بات چیت کا اگلا دور ایک امکان بن کر رہ سکتا ہے، حقیقت نہیں۔
