امریکی وزیرِ صحت Robert F. Kennedy Jr. نے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز (CDC) کے نئے نامزد ڈائریکٹر کی ویکسین پالیسی کے حوالے سے واضح طور پر حمایت کا عہد کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے انتظامیہ کے اندر عوامی صحت کی سمت پر اختلافات کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
کانگریس کی سماعت کے دوران، کینیڈی سے قانون سازوں نے سوال کیا کہ آیا وہ آنے والی CDC سربراہ ڈاکٹر ایریکا شوارٹز کی حمایت کریں گے، خاص طور پر ویکسین سے متعلق معاملات پر۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی ڈاکٹر شوارٹز کے ساتھ ویکسین کے موضوع پر بات چیت ہوئی ہے، لیکن انہوں نے ان کے مؤقف کی مکمل عوامی حمایت دینے سے گریز کیا۔
یہ ہچکچاہٹ امریکہ میں ویکسین پالیسی سے متعلق وسیع تر تناؤ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ کینیڈی، جو طویل عرصے سے ویکسین پر شکوک و شبہات سے منسلک رہے ہیں، پہلے بھی حفاظتی ٹیکہ جات کے رہنما اصولوں اور نگرانی کے اداروں میں تبدیلیوں کی حمایت کر چکے ہیں، جس پر طبی ماہرین اور قانون سازوں نے تنقید کی ہے۔
ڈاکٹر شوارٹز کی نامزدگی کو بعض افراد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے Centers for Disease Control and Prevention میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، تاکہ ایک زیادہ روایتی اور تجربہ کار عوامی صحت کی شخصیت کو ادارے کی قیادت دی جائے۔ تاہم یہ اب بھی واضح نہیں کہ اگر ان کی تصدیق ہو جاتی ہے تو انہیں کتنی آزادی حاصل ہوگی۔
اس معاملے کو حالیہ قانونی اور ادارہ جاتی چیلنجز نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک وفاقی عدالت کے فیصلے نے CDC کی ویکسین مشاورتی کمیٹی کے کام میں خلل ڈالا ہے، جس سے ملک بھر میں ویکسین سفارشات اور ان کی دستیابی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
کینیڈی کے غیر واضح مؤقف نے امریکہ کی ویکسین پالیسی کے مستقبل اور وفاقی صحت کے اداروں میں سائنسی قیادت کے کردار پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سیاسی قیادت اور عوامی صحت کے ماہرین کے درمیان جاری کشمکش کو ظاہر کرتی ہے، جب واضح رہنمائی انتہائی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
