کراچی کی ریڈ لائن بی آر ٹی ایک بار پھر سنگین انتظامی اور تعمیراتی تعطل کی زد میں آ گئی ہے، اور مسلسل تاخیر کے بعد منصوبے کے لاٹ-2 کے معاہدے کو ختم کرنے کی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق موسمیات سے نمائش تک پھیلا یہ حصہ، جو منصوبے کا بڑا اور زیادہ حساس سیکشن سمجھا جاتا ہے، کئی ماہ سے سست روی، سائٹ پر محدود سرگرمی اور ٹھیکیداری تنازعات کا شکار رہا ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کو ابتدا میں 2022 میں 30 ماہ میں مکمل کرنے کے ہدف کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، اور اس کی تکمیل جون 2024 تک متوقع تھی۔ لیکن 2026 تک آتے آتے یہ ہدف بہت پیچھے رہ گیا، جبکہ زمینی صورتِ حال یہ بتاتی ہے کہ منصوبے کے کئی حصوں پر رفتار اب بھی غیر تسلی بخش ہے۔ حالیہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی روڈ کاریڈور پر کئی مقامات پر کام نہ ہونے کے برابر دکھائی دیا، جس کے بعد لاٹ-2 کے مستقبل پر سوالات مزید گہرے ہو گئے۔
لاٹ-2 کے مسائل صرف رفتار کم ہونے تک محدود نہیں رہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس حصے میں ماضی میں بھی ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام کے درمیان مالی اور انتظامی نوعیت کے اختلافات سامنے آتے رہے، یہاں تک کہ کچھ عرصہ کام معطل بھی رہا۔ ساتھ ہی کے-فور پائپ لائن اور دیگر یوٹیلیٹی شفٹنگ کے مسائل نے بھی تعمیراتی شیڈول کو متاثر کیا، جس کا براہِ راست بوجھ کراچی کے شہریوں نے روزمرہ ٹریفک، متبادل راستوں اور لمبے سفری وقت کی صورت میں اٹھایا۔
یہ منصوبہ معمولی نوعیت کا نہیں۔ سرکاری اور ٹرانس کراچی کے مطابق ریڈ لائن بی آر ٹی تقریباً 26.6 کلومیٹر طویل کاریڈور ہے جو ملیر ہالٹ سے ٹاور تک مختلف شہری علاقوں کو جوڑے گا، اور مکمل ہونے پر تقریباً 15 لاکھ افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچانے کے ساتھ روزانہ لگ بھگ 3 لاکھ 50 ہزار مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ اسی لیے لاٹ-2 میں پیدا ہونے والا تعطل محض ایک ٹھیکے کا مسئلہ نہیں بلکہ کراچی کے بڑے شہری نقل و حمل منصوبے کے مستقبل سے جڑا معاملہ بن چکا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر لاٹ-2 کا معاہدہ واقعی ختم کیا جاتا ہے، تو اس کے بعد متبادل انتظام کیا ہوگا۔ ابھی تک تازہ عوامی رپورٹنگ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نیا ٹھیکیدار کب اور کیسے لایا جائے گا، یا موجودہ تاخیر کو کم کرنے کے لیے کیا ہنگامی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ تاہم ایک بات واضح ہے: ریڈ لائن منصوبہ جتنا زیادہ کھنچتا جائے گا، اتنا ہی کراچی کے انفرااسٹرکچر، ٹریفک نظم اور عوامی اعتماد پر اس کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔
