اسلام آباد، 29 اپریل — وزیرِاعظم شہباز شریف آج ایک نئے ہاؤسنگ فنانس پیکج کا اعلان کرنے والے ہیں، جسے حکومت کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس اسکیم کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو گھر کی خریداری یا تعمیر کے لیے آسان شرائط پر قرض فراہم کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس پیکج کے تحت شہریوں کو ایک کروڑ روپے تک قرض دیا جا سکے گا، جبکہ پہلے 10 برس کے لیے شرحِ سود 5 فیصد فکسڈ رکھی جائے گی۔ قرض کی واپسی کی مدت 20 سال تک ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ تفصیلات باضابطہ اعلان میں برقرار رہتی ہیں تو یہ حالیہ برسوں میں حکومت کی جانب سے کم لاگت رہائشی فنانس کی بڑی کوششوں میں شمار ہو گی۔
اس مجوزہ اسکیم کی خاص بات یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ صرف گھر خریدنے والوں تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ بعض صورتوں میں ایسے افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو پہلے سے پلاٹ کے مالک ہیں اور تعمیر کے لیے سرمایہ چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا دائرہ اب تک محدود رہا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلی بار گھر خریدنا چاہتے ہیں مگر مہنگی مارک اپ شرح، کم مدت کے قرض اور سخت بینکاری شرائط کی وجہ سے نظام سے باہر رہتے ہیں۔
حکومت پچھلے چند ہفتوں سے اس سمت میں سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ مارچ 2026 میں وزیرِاعظم نے ہاؤسنگ اور ورکس کے شعبے سے متعلق اجلاسوں میں حکام کو ہدایت دی تھی کہ عام آدمی تک ہاؤسنگ فنانس کی سہولت مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان اجلاسوں میں کم لاگت رہائش، رہن فنانس کے ڈھانچے میں بہتری، اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی بات ہوئی تھی۔
حکومتی حلقے اس پیکج کو صرف ایک سماجی سہولت نہیں بلکہ معاشی سرگرمی بڑھانے کے آلے کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تعمیرات کا شعبہ سیمنٹ، سریا، ٹائلز، لکڑی، الیکٹریکل سامان اور مزدوری سمیت کئی ذیلی صنعتوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ہاؤسنگ فنانس میں وسعت کو روزگار اور کاروباری سرگرمی کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
تاہم اصل امتحان اعلان کے بعد شروع ہوگا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اہل ہونے کے لیے آمدن کی حد کیا ہوگی، کتنی ڈاؤن پیمنٹ درکار ہوگی، کون سے بینک قرض فراہم کریں گے، اور حکومت سود میں رعایت کا بوجھ کس حد تک خود اٹھائے گی۔ یہ سوالات اہم ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی کم لاگت ہاؤسنگ اور سبسڈی والے قرضوں کی اسکیمیں سامنے آتی رہی ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد اکثر بڑا مسئلہ بنا رہا۔
اس پیکج کا ایک اہم پس منظر پہلے سے موجود ہاؤسنگ اسکیمیں بھی ہیں، جن میں ’میرا پاکستان میرا گھر‘ اور کم لاگت رہائشی فنانس سے متعلق دیگر پروگرام شامل ہیں۔ حکومت اب بظاہر ان ہی کوششوں کو نئی شکل دے کر زیادہ براہِ راست اور سیاسی طور پر نمایاں انداز میں عوام کے سامنے لا رہی ہے۔
اگر آج کے اعلان میں وہی نکات شامل ہوتے ہیں جن کی خبریں گردش میں ہیں، تو حکومت اسے عام شہری کے لیے اپنے گھر کے خواب کو نسبتاً قابلِ حصول بنانے کے طور پر پیش کرے گی۔ مگر آخرکار کامیابی کا دارومدار ایک ہی بات پر ہوگا: کیا یہ قرض واقعی لوگوں تک پہنچتا ہے، یا یہ بھی صرف ایک اچھا اعلان ثابت ہو کر رہ جاتا ہے۔
