پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے بجٹ کو “متوازن” قرار دیتے ہوئے اسے برآمدات کے لیے مثبت اور مستحکم قرار دیا ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں اور پیداواری لاگت کو اب بھی بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
صنعتی حلقوں کے مطابق پالیسی تسلسل نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو فائدہ دیا ہے، لیکن مجموعی لاگت میں اضافہ مستقبل میں مسابقت کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پولٹری اور پلاسٹک سیکٹر نے بجٹ پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ ٹیکسوں اور پیداواری لاگت میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا اور اس کا بوجھ صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ٹریڈ یونینز نے بھی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے باوجود مزدور طبقے کو مناسب ریلیف نہیں دیا گیا اور اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بجٹ کے اثرات مختلف شعبوں پر مختلف ہیں، جہاں برآمدی صنعتیں نسبتاً مطمئن ہیں، وہیں مقامی صنعتیں اور مزدور طبقہ دباؤ میں ہیں۔
