سوفی ڈیوائن اور لیا تاہوہو نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد مختصر فارمیٹ کی انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی ان دو تجربہ کار کھلاڑیوں کے فیصلے نے وائٹ فرنز کے ایک اہم دور کے خاتمے پر مہر ثبت کر دی ہے۔
وائٹ فرنز کی موجودہ کپتان سوفی ڈیوائن ٹورنامنٹ کے فوراً بعد اپنی قیادت سے بھی دستبردار ہو جائیں گی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل فارمیٹ کے لیے بدستور دستیاب رہیں گی۔
یہ فیصلہ ایک طویل اور شاندار کرکٹ سفر کا اختتام ہے۔ ڈیوائن نے 2006 میں ڈیبیو کیا تھا، اور تب سے وہ ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک تیز گیند باز سے لے کر دنیا کی خطرناک ترین بلے باز بننے تک کا ان کا سفر نیوزی لینڈ کی ٹیم کے لیے ہمیشہ ایک تحریک رہا ہے۔ ان کی قیادت کا انداز جارحانہ اور خود کو ہر مشکل میں فرنٹ پر رکھنے والا رہا ہے، جس نے نیوزی لینڈ کو عالمی سطح پر مضبوط حریف کے طور پر برقرار رکھا۔
دوسری جانب لیا تاہوہو کی ریٹائرمنٹ باؤلنگ اٹیک کے لیے ایک بڑا خلا چھوڑے گی۔ نئی گیند کے ساتھ سوئنگ اور پیس پر عبور رکھنے والی تاہوہو ایک دہائی سے زائد عرصے تک ٹیم کی اہم اسٹرائیک باؤلر رہی ہیں۔ ڈیوائن کے ساتھ ان کی شراکت داری ٹیم کے لیے تجربے اور حکمت عملی کا بہترین توازن رہی ہے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ نے ابھی تک ٹی ٹوئنٹی کپتانی کے لیے کسی جانشین کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم کی حالیہ کارکردگی میں عدم تسلسل کو دیکھتے ہوئے، قیادت کی یہ تبدیلی ٹیم کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔
ڈیوائن اور تاہوہو کے لیے یہ ورلڈ کپ صرف ایک الوداعی ٹورنامنٹ نہیں ہے۔ وائٹ فرنز حالیہ سیریز میں شکستوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اور ایسے میں ان دونوں کھلاڑیوں کی 36 سالہ مشترکہ تجربے کی صلاحیتیں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ڈھال ثابت ہوں گی۔
کیا یہ جوڑی اپنے آخری ٹورنامنٹ میں کوئی ٹرافی جیت کر رخصت ہوگی؟ یہ سوال شائقین کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ اس وقت، ان کی توجہ صرف یو اے ای کے مشکل کنڈیشنز میں ٹیم کو کامیابی دلانے پر مرکوز ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز 3 اکتوبر سے ہو رہا ہے۔ ڈیوائن اور تاہوہو کے لیے یہ مختصر فارمیٹ کی جرسی پہننے کا آخری موقع ہے — ایک آخری کوشش، اپنی شرائط پر کرکٹ کو خیرباد کہنے کی۔
